Sunday, 22 January 2017

یوسی نائیویلہ کی پسماندگی اور عوام کی دم توڑتی امیدیں


تحصیل پروآ کی درجنوں دیہاتوں سے منسلک کثیر تعداد آبادی اور وسیع کاروباری حب یونین کونسل نائیویلہ آج بھی حقیقی مسیحا کی منتظر ہے.بلدیاتی الیکشن میں عوام نے نامزد ہونے والے نمائندوں سے بہت سی امیدیں وابسطہ کر لی تھیں.لیکن عوام کی ان نمائندوں سے وابسطہ امیدیں ان مے منتخب ہونے کے فورا بعد ہی دم توڑ گئیں کیونکہ
بلدیاتی الیکشن میں متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تحصیل ممبر خالد حمید
اور ضلع ممبر ناصر خان کو عوام نے کامیاب کروایا تاکہ متوسط طبقہ سے
تعلق رکھنے والے موصوف ان کی داد رسی اور آج تک جو پسماندگی ملی
اس پسماندگی کا اذالہ کرکے یونین نائیویلہ کی عوام کو خوشحالی طرف
دھکیلیں گے لیکن جس طرح 2003 میں تحصیل کا خواب پورا ہوا لیکن آج تک پروآ
کی عوام اندھیروں کی زندگی بسر کر رہی ہے اور ہیڈ کوارٹر پروآ کی عوام پینے کے صاف
پانی بجلی نکاسی آب سمیت تعلیم و صحت جیسےمسائل سے دوچار ہے اسی طرح نائیویلہ کی
عوام کا خواب تھا کہ وڈیرہ ازم اور ذاتی مفادات حاصل کرنےوالے وڈیروں سے چھٹکارہ حاصل کرکے متوسط طبقہ سے تعلق
رکھنے والے لوگوں کو اقتدار کی راہ دیکھائیں تاکہ عوامی مسائل دہلیز پر
حل ہوسکیں لیکن یونین نائیویلہ کی عوام کا خواب فقط خواب ہی رہا اور سارا معاملہ الٹا ہوگیا کیونکہ تحصیل ممبر  خالد حمید جو
عوام کی خاطر ہر میدان میں سب سے پہلے نظر آتے اور بے سود دھرنے بھی دے
دیتے لیکن کسی سرائیکی دانشور نے خوب کہا کہ (نکھتا تماں کیہاں
اماں؟)مطلب جب تک ووٹ کا مطلب تھا تو سب مسائل کی جنگ لڑتا نظر آتا جب
تحصیل ممبر بنا تو عوام سے نظریں چرانے لگا. گزشتہ روز کی طوفانی بارش سے لوگوں
کے گھروں و فصلات کو شدید نقصان پہنچا لیکن تحصیل ممبر خالد حمید چکر تک
نہ لگا سکا اسی طرح یونین نائیویلہ میں  آنے والے تقریبا اٹھارہ دیہات جن
میں  گرہ طاہر گرہ موسی گرہ غوث شاہ گرہ عاشق جھوک رمضان  جھوک مسو گرہ
رشید سمیت ملیکھی وغیرہ شامل ہیں جن میں نہ پینے کا صاف پانی ہے نہ راستہ
نا پختہ گلیاں نہ تعلیم کا کوئی بہتر نظام نہ صحت کا نظام ایک بی ایچ یو
ہے گرہ رشید میں جہاں لوگ پاخانہ کرنے جاتے ہیں اور علاقہ کی لٹرین کا
نظام چلا رہی ہے لیکن آج تک تحصیل و ضلع ممبر اس بی ایچ یو کا دورہ بھی
نہ کر سکے آخر لوگوں نے ان کو ووٹ کیوں دیا؟
تحصیل.ممبر تو صرف اور صرف سرائکی کے نعرے لگانے تک محدور ہوکر رہ گئے ہیں.عوام نے ووٹ اس لئے دیا تھا کہ لوگوں
کے حقوق کا خیال  کرکے ان کے مسائل حل کریں جبکہ تحصیل و ضلع ممبر اس کے
کچھ برعکس چل پڑے یونین نائیویلہ کی عوام نے اطلس خان شوکت حاجی سیدو
وغیرہ کو پشت پر ڈال کر ان کو کامیاب کروایا لیکن تحصیل ممبر  عوام کے
بجائے ان ہارے ہوئے لوگوں کے چرن چھوتا نظر آتا ہے عوام صاف پانی سے
محروم ہے. لاکھوں روپے تحصیل بجٹ  بھی ملا جو آج تک معلوم نہیں کہ نے کہاں لگایا لگایا گیا ہے. اسی طرح ضلع
ممبر ناصر خان جو تقریبا عرصہ دراز سے لا پتہ ہے کہ کہاں ڈیرہ جما رکھا
ہے گزشتہ روز مثل خیبر ٹیم نے ایک سروے کیا تو چند لوگوں نے
کہا کہ الیکشن کے بعد ہم نے موصوف کو نائیویلہ اڈہ پر دیکھا جبکہ 98 فیصد
لوگوں نے کہا پنجاب ہیں اور شاید وہاں الہ دین کا چراغ ڈھونڈ کر لائیں گے
اور چند دن میں عوامی مسائل ایک رگڑ سے حل کر دیں گے کیونکہ یوسی
نائیویلہ سے لی گئی تصویریں یہ واضح بتا رہی ہیں کہ سرکاری عمارتیں سمیت
لوگوں کے گھر گلیاں کوئی چیز بھی قدرتی آفات مطلب تھوڑی بارش یا سیلاب سے
محفوظ نہیں.امید ہے کہ پروآ سرکل کی طرح یوسی.نائیویلہ کے بھی مسائل.کبھی حل نہ ہوسکیں گے کیونکہ ہر بار الیکشن میں عوام نئے امیدواروں سے.کئی قسم کی امیدیں وابسطہ کرکے انہیں کامیاب کراتی ہے اور پھر الیکشن کے بعد پورے دور حکومت انہیں تلاش کرنے اور ملاقات کی کوشش میں گزار دیتی ہے.

No comments:

Post a Comment