Thursday, 21 August 2025

سہولتوں کی جنت اور مقصدِ حیات کا فقدان

کالم
اگر کسی مخلوق کو دنیا کی ہر آسائش، ہر سہولت اور ہر تحفظ دے دیا جائے تو کیا وہ ہمیشہ خوش، مطمئن اور کامیاب رہے گی؟ بظاہر تو یہ سوال عجیب معلوم ہوتا ہے، اور ہمارا فوری جواب یہی ہوگا کہ "ہاں، جب سب کچھ میسر ہو تو پریشانی کس بات کی؟"۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ سوال پہلی بار حیاتیات کے ایک امریکی ماہر جان کلہون نے عملی تجربے کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھا۔ سنہ 1970ء میں انہوں نے چوہوں کے لیے ایک ایسا ماحول بنایا جسے وہ "جنت" کہتے تھے۔ اس جنت میں خوراک کی کوئی کمی نہیں تھی، جگہ وافر تھی، دشمن کوئی نہیں تھا۔ مختصر یہ کہ زندگی کی ہر ضرورت موجود تھی۔ اس ماحول میں محض چار جوڑے چوہوں کو چھوڑا گیا۔ ابتدائی دنوں میں سب کچھ خوب چلتا رہا۔ چوہے تیزی سے بڑھتے گئے، نسل در نسل آبادی میں اضافہ ہوتا رہا۔ کسی لڑائی جھگڑے یا بقا کی جنگ کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ ہر چیز وافر مقدار میں دستیاب تھی۔ لیکن صرف 315 دن بعد معاملہ بدلنا شروع ہو گیا۔ چوہوں کی آبادی میں اضافہ اچانک سست پڑ گیا۔ معاشرتی ڈھانچہ بگڑنے لگا۔ کچھ چوہے مکمل گوشہ نشین ہو گئے، وہ نہ لڑتے، نہ تعلقات رکھتے، نہ نسل بڑھاتے۔ کچھ نے بچوں کو پالنے سے انکار کر دیا، حتیٰ کہ نوزائیدہ چوہے مرنے لگے۔ دوسری طرف تشدد، آپس میں لڑائیاں اور یہاں تک کہ ایک دوسرے کو کھانے جیسے رویے جنم لینے لگے۔ اور کچھ ایسے چوہے تھے جنہیں "بے مقصد" کہا گیا۔ وہ نہ کسی سماجی سرگرمی میں شریک ہوتے، نہ تنازعہ میں، نہ افزائش نسل میں۔ ان کی پوری زندگی صرف کھانے، سونے اور وقت گزارنے میں گزر جاتی۔ یوں رفتہ رفتہ یہ جنت اجڑنے لگی۔ اور آخرکار دو سال بعد آخری بچہ پیدا ہوا۔ اس کے بعد موت کے سوا کچھ نہ بچا۔ یہ تجربہ کلہون نے 25 مرتبہ دہرایا اور ہر بار نتیجہ ایک ہی نکلا: جب زندگی سے مقصد اور جدوجہد چھن جائے تو معاشرہ سہولتوں کے باوجود تباہ ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی محض چوہوں کی نہیں، یہ ہماری انسانیت کے لیے ایک گہری مثال ہے۔ آج کا انسان جتنا آسائشوں کے قریب جا رہا ہے، اتنا ہی خالی پن، ذہنی دباؤ اور تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں دولت اور سہولتیں تو بے حساب ہیں، مگر خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے، شرحِ پیدائش کم ہوتی جا رہی ہے، خودکشی اور ذہنی بیماریوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔ گویا انسان بھی اس "چوہوں کی جنت" کی طرح آہستہ آہستہ اپنی اصل روح اور مقصد سے دور ہو رہا ہے۔ اسلام نے اسی حقیقت کو صدیوں پہلے واضح کیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق کشادہ کر دیتا تو وہ ضرور زمین میں سرکشی کرنے لگتے، لیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ (یعنی جتنا مناسب ہو) نازل فرماتا ہے، جیسا وہ چاہتا ہے۔” (سورۃ الشورى: 27) یعنی بے حساب سہولتیں انسان کو سرکشی اور بے مقصدی کی طرف لے جاتی ہیں، جبکہ ضرورت کے مطابق رزق اور زندگی کی جدوجہد ہی انسان کو متوازن، زندہ اور بامقصد رکھتی ہیں۔ انسان کو زندہ رکھنے کے لیے محض کھانا، پینا اور سہولتیں کافی نہیں ہوتیں۔ انسان کو ایک مقصدِ حیات چاہیے۔ ایک جدوجہد، ایک خواب، ایک چیلنج… ورنہ زندگی خواہ کتنی ہی آسان کیوں نہ ہو، وہ کھوکھلی اور بے معنی ہو جاتی ہے۔ ہمارے لیے اصل مقصد دنیاوی آرام و آسائش نہیں بلکہ اللہ کی بندگی، خدمتِ خلق، اور ایک بامعنی زندگی ہے۔ یہی جدوجہد ہمیں انسانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز کرتی ہے۔ اگر ہم نے مقصد کھو دیا تو ہماری کہانی بھی انہی چوہوں کی بستی جیسی ہوگی — سہولتوں میں ڈوبی مگر اندر سے خالی، اور آخرکار فنا۔

Friday, 1 August 2025

مادرِ ملت کو خراجِ عقیدت

ہر قوم کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے کردار، عزم اور قربانیوں سے تاریخ کا دھارا بدل دیتی ہیں۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ایسی ہی ایک تابناک شخصیت تھیں، جن کی جدوجہد، بصیرت اور بے لوث خدمات نے نہ صرف تحریکِ پاکستان کو مضبوط کیا بلکہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی اُنہوں نے اصولوں کی سیاست کو نئی جہت دی۔ محترمہ فاطمہ جناح، قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ ہونے کے ناطے صرف ایک رشتہ دار نہیں تھیں، بلکہ وہ اُن کے ہر قدم پر نہایت پُراعتماد اور نظریاتی ہمسفر تھیں۔ جس وقت قائداعظم نے سیاست میں تنہائی محسوس کی، اُس وقت یہ عظیم بہن ان کے ساتھ نہ صرف کھڑی ہوئیں بلکہ اُن کی تقویت کا سبب بنیں۔ اُنہوں نے اپنے بھائی کی بیماری کے ایّام میں جس طرح ان کی خدمت کی، وہ ہماری تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہے۔ فاطمہ جناح ایک ایسی باہمت، باوقار اور پُرعزم خاتون تھیں جنہوں نے نہ صرف تحریکِ پاکستان میں خواتین کی قیادت کی بلکہ پاکستان بننے کے بعد بھی جب قومی نظریات پر
سمجھوتے ہونے لگے تو وہ خاموش نہ رہیں۔ 1965ء کے صدارتی انتخابات میں اُن کی جرأت مندانہ سیاسی انٹری نے یہ ثابت کیا کہ وہ صرف ایک قومی یادگار نہیں بلکہ ایک فعال اور صاحبِ کردار رہنما بھی ہیں۔ وہ پاکستان کی بیٹیوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ آج جب ہم خواتین کی خودمختاری، تعلیم، اور سیاسی شراکت کی بات کرتے ہیں تو ہمیں فاطمہ جناح کا کردار سامنے رکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے ثابت کیا کہ عورت کمزور نہیں، بلکہ وہ قومی تحریکوں کی قیادت بھی کر سکتی ہے اور آمرانہ قوتوں کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔ مادرِ ملت کا نظریہ، اُن کی سادگی، کردار کی بلندی، اور اصول پسندی آج بھی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اگر ہم نے پاکستان کو قائد و اقبال کے خوابوں کے مطابق بنانا ہے تو ہمیں صداقت، قربانی اور استقامت کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ آج کے دن اُنہیں صرف خراجِ عقیدت پیش نہ کریں بلکہ اُن کی جدوجہد سے سبق لیتے ہوئے قومی و سیاسی معاملات میں اصولوں کو ترجیح دیں۔ مادرِ ملت کا نام صرف ایک شخصیت کا حوالہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظریے اور تحریک کی علامت ہے — جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان کی بنیاد قربانی، دیانت اور نظریاتی جدوجہد پر رکھی گئی تھی۔ یقیناً، مادرِ ملت کی زندگی ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

Sunday, 20 July 2025

غیرت کی لاش پر رقص کرتی روایتیں

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈغاری، مارگٹ اور ماروڑا میں حال ہی میں جو المناک واقعہ پیش آیا، وہ صرف ایک نوجوان جوڑے کے بہیمانہ قتل کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے سماج کی روح پر پڑنے والے گھاؤ کی داستان ہے۔ ایک ایسا زخم، جو وقت کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے — اور ہم سب تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ احسان اللہ ولد سمالانی اور بانو بی بی بنت ساتکزئی — دو جوان، جن کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنی پسند سے جینے کا خواب دیکھا۔ ان کے قبیلے، جرگے اور سماج نے اس خواب کی ایسی بھیانک تعبیر دی کہ ان کی زندگی ہی چھین لی گئی۔ ویڈیو میں لڑکی کی قرآن کے واسطے دیتی آواز، اور پھر قرآن کو اس کے ہاتھ سے چھین لینے کا منظر انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ کیسی غیرت تھی جو اللہ کی کتاب کے سامنے بھی نہ جھکی؟ یہ صرف ایک واقعہ نہیں۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCPی رپورٹ کے مطابق 2024 میں صرف بلوچستان میں غیرت کے نام پر 47 قتل رپورٹ ہوئے، جن میں 70 فیصد سے زائد خواتین تھیں۔ نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW) کے مطابق پاکستان میں سالانہ 1000 سے زائد خواتین غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہیں — اور یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو رپورٹ ہوئے، جبکہ حقیقت کہیں زیادہ ہولناک ہے۔ یہ قتل ریاست کے سامنے ہوئے، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی، عوامی ردعمل آیا، #JusticeForDughariVictims ٹرینڈ بن گیا، اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے "نوٹس" بھی لے لیا۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا ہم ایک بار پھر صرف نوٹس اور بیانات پر ہی اکتفا کریں گے؟ کیا جرگے کے تمام ارکان گرفتار ہو چکے؟ کیا مقتولین کے ورثاء کو تحفظ ملا؟ کیا ریاست نے واضح پیغام دیا کہ اب قانون سے بالا کوئی نہیں ہوگا؟ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 311 اور 302 کے تحت غیرت کے نام پر قتل ناقابلِ معافی جرم ہے، اور 2016 کے قانون کے مطابق وارث معاف بھی کرے تو قاتل کو سزا دی جا سکتی ہے۔ مگر جب جرگہ ہی عدالت بن بیٹھے، اور بندوق ہی فیصلہ سنا دے، تو قانون بے بس نظر آتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف قانون کا نہیں، سماج کا بھی ہے۔ ہمیں اپنے قبائلی، جاگیردارانہ اور پدرشاہی ڈھانچے کا جائزہ لینا ہوگا، جو غیرت کے نام پر خون کو "رسم" بنا دیتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے زمانہ جاہلیت کی رسموں کو ختم کرنے کا پیغام دیا تھا — جہاں بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا، وہاں قرآن نے ان کی عزت و عظمت کی بات کی۔ افسوس کہ ہم آج بھی انھی تاریک گلیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ وہی سوچ، وہی وحشت — صرف شکلیں بدل گئی ہیں۔ ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ نہ ستی جیسی رسومات سے، نہ قبائلی جنگوں سے، نہ اس ظلم سے جو انسانوں نے انسانوں پر روا رکھا۔ ظلم کو "روایت" کہہ کر چھپانے والوں سے ایک سوال ہے: کیا روایتیں انسانوں کے لیے ہیں، یا انسان روایتوں کے غلام؟ ہمیں اس مسئلے پر قومی سطح پر مکالمہ شروع کرنا ہوگا۔ جرگہ کلچر پر پابندی لگائی جائے، غیرت کے نام پر قتل کو انسداد دہشتگردی کے زمرے میں لا کر فوری سزائیں دی جائیں، پولیس اور عدالتیں متاثرین کو فوری تحفظ فراہم کریں، اور سب سے بڑھ کر — ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ یہ صرف بانو بی بی اور احسان اللہ کا قتل نہیں، یہ انصاف، انسانیت اور اسلامی تعلیمات کا قتل ہے۔ خدارا، اب تو جاگو! --

Tuesday, 13 June 2023

ڈیرہ میں انے والی عفریت کا قصہ

یہ ستمبر2006ء کے موسم گرما کاذکر ہے جب ڈیرہ میں شوہر حضرات اپنی بیویوں سمیت مچھروں سے لڑتے جھگڑتے، دستی پنکھا ہاتھ میں لے کر جھلتے، واپڈا کو کوستے،اپنی بدقسمتی اور بد نصیبی کا رونا روتے نیند کی وادی میں اتر نے لگتے تو آدھی رات کے پچھلے پہر کوئی عفریت نما چھلاوا شہر کے کسی گلی کوچے سے نکل کر گھروں میں گھس جایاکرتا اور اہل خانہ کو خوف زدہ کیا کرتاتھا۔ اُس وقت کے ایک خبری کے مطابق:”یہ کوئی چڑیل ہے جس کے پاس شہر بھر کی اُن تمام (وات پاڑی) زبان دراز عورتوں کی ڈیٹا بیس موجود ہے جو اپنے شوہروں کو گاہے بگاہے بَچھاتی (لگائی بجھائی)اور سسرال والوں کو ستاتی رہتی ہیں“۔ ایک انجانے خوف کی وجہ سے عور تیں گرمی کی پروا کیے بغیر حبس زدہ کمروں میں سو نے لگیں جبکہ دن بھر کے تھکے ہارے مرد ہاتھوں میں ڈنڈہ لیے جاگ کر راتیں گزارنے لگے،مگراتنی سخت سیکیورٹی کے باوجود دہشت کی علامت بنی چھلاوا نما بلاں کو کہیں نہ کہیں تواتر سے دیکھا جانے لگا۔زیادہ تر یہ اندرون شہر مثلاً محلہ جوگیانوالہ کڑی علیزئی، چمن چوک اور چوک سیٹھ اشرف کے اردگرد نظر آنے لگی،بہت سی عورتوں اور بچوں نے اسے گھروں میں گھس کر عورتوں پر حملہ آور ہوتے بھی دیکھا۔چوک سیٹھ اشرف کی ایک متاثرہ خاتون نے صبح سویرے اٹھ کر محلے کی عورتوں کو کچھ اس قسم کا دلچسپ واقعہ سنایا:”میں رات کُوں سُتی پئی ہام کہ اَوتری نِبھئی بلاں میݙےسِراندُوں پاسے آ کھڑی تھئی،تے ول کُجھ دیر بعد میݙےچُونڈے پٹݨ لگ گئی،میݙےشور مچاون نال رمضان دا پیو سُجاگ تھی گِیا،تے اُوں بلاں کُوں ھَکلا،تاں نِبھئی بلاں میݙےسِرُوں لتھی تے دھروک مار کے کندھ تے چڑھ کے اغیب تھی گئی،میں ول کݙاں پِرا وِچ نہ سمساں“۔ اسی قسم کے دوسرے واقعے میں اندرون شہر کے ایک مظلو م شوہر نے کچھ اس طرح کا چشم دید واقعہ سنایا:”رات کو سوتے ہوئے تقریباً دو بجے کے قریب کسی کھٹکے سے اچانک میری آنکھ کھلی تودیکھا کہ کوئی سات آٹھ فٹ جسامت کی کالی سیاہ اور خوفناک چہر ے والی مخلوق میری بیوی کے پہلو میں کھڑی ہے، اس خوفناک چڑیل نے آناً فاناً میری بیوی کا گلا دبانا اور بال نوچنا شروع کر دیئے، مگر میری دھمکی کی آوازسنتے ہی وہ گھبرا کرپلک جھپکتے دیوار پھلانگ کر نظروں سے اوجھل ہو گئی“۔اس قسم کے واقعات سن کر محلے کے مولوی حضرات نے فوراً فتویٰ ٹھوک دیا:”بھائیو بس قیامت آیا چاہتی ہے سو ہمیں اپنے اپنے گناہوں کی اجتماعی معافی مانگ لینی چاہیے“۔ بلا ں کے خوف سے شہر بھر کی مساجد بھر گئیں اور عورتیں دل و جان کی بجائے فقط اپنی جان کی سلامتی کے عوض اپنے شوہروں کی خدمت کرنے لگیں تاکہ وہ اُس چڑیل کی گُڈ بُک میں آ جائیں۔ ماہ ِرمضان کے آخری عشرے اور عید الفطر کی آمد سے چند روز پہلے بلاں نے یک طرفہ سیز فائرکا اعلان کر تے ہوئے شہر کی دیوارں پر خوفناک پیغام لکھا ”خوش نہ تھیوؤ،میں عید دے بعد ول آندی پئی ہاں“۔ بلاں کی وال چاکنگ اورالیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی بھرپور کوریج نے اسے شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا، مگر اسے بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے کا سہر ہ ہماری ویب سائٹ”اپناڈیرہ ڈاٹ کام“ (Apnadera.com) کے سر جاتاہے۔ہماری ویب سائٹ پر عفریت کے حوالے سے ایک خصوصی ڈسکشن فورم ترتیب دیا گیا جہاں ویب سائٹ کے مقامی نمائندے وقتاً فوقتاً بلاں کے بارے میں بریکنگ نیوز دیتے رہتے اورموصول ہونے والی تازہ ترین خبروں کی روشنی میں ڈیرہ سے وصی شاہ، اقبال کروڑی، دوبئی سے عظمت خاکوانی،ابراہیم لاشاری، محمد رمضان، اسلام آباد اور آسٹریلیا سمیت دہلی سے ہمارے خصوصی سرائیکی دوست مکیش اسیجا ..سب اپنے ماہرانہ تبصرے جاری کرتے رہتے۔ کوئی اسے شعبدہ باز، کوئی جن بھوت،عفریت، کوئی سائنس فکشن،کوئی نظری سراب، کوئی ایجنسی کا کارندہ، کوئی مارشل آرٹ کا ماہر، سپرنگوں والی بلاں, کوئی ہتھوڑا گروپ کا دوسرا جنم تو کوئی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی شمار کرنے لگتا۔کچھ پڑھے لکھے ڈیرے والوں کے مطابق یہ کوئی جن،بھوت،چڑیل یا جادوگرنی نہیں بلکہ خفیہ کا کوئی تربیت یافتہ بندہ ہو سکتا ہے، بہرحال جتنے کمپیوٹرز اتنے کی بورڈ۔ شہر بھر کی عورتوں کے ساتھ بلاں کے نا زیبا اور غیر انسانی سلوک کے تناظر میں ہم سب ویب سائٹ کے ڈسکشن فورم میں پہلے دن ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ عفریت جو کوئی بھی ہے کرتوتوں سے شادی شدہ ہے اور جنس کے لحاظ سے نر لگتاہے۔ستمبرکا پورامہینہ ویب سائٹ کی سب سے ہاٹ نیوز ”ڈیرہ میں نظر آنے والی بلا ں اور اس کی کارستانیاں“ چھائی رہی۔ جب پولیس اس عفریت نما چھلاوے کو پکڑنے میں ناکام ہو گئی تو عوام کا منہ بند رکھنے کے لیے انہوں نے ڈیرہ کے روڈ ماسٹر, جیمز بانڈ 007, اور ٹرمنیٹر تُھو اختر طوفان مرحوم عرف ”اختر دا گریٹ“ کو حوالات میں بند کر دیا۔ اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد میرا سڈنی سے ڈیرہ جانے کا اتفاق ہو اتو میں اختر طوفان سے خصوصی طور پر ملا، چونکہ وہ میرا ہائی سکول کے زمانے کا کلاس فیلو اور دوست رہا تھا،اسی لیے اس نے کھل کر سارا ماجرا من و عن سنا یا۔بقول اخترکے: ”میں سارے دن کی مٹر گشت اور روڈ ماسٹری کے بعد اپنی سائیکل اسٹینڈ پر کھڑی کیے،اپنا آفیشیل اور پروفیشنل ڈریس ”وِگ،عینک اور مونچھیں“ اتارے تھکا ہارا گھر کے صحن میں چارپائی پر لیٹے خراٹے لے رہا تھا کہ ان ظالم ݙاتریوں (پولیس)نے میرے گھر کی عقبی دیوار پھلانگ کر میرے اوپر میلی بدبودار چادر ڈال دی۔چادرسے نکلنے والی گوبر کی قدرتی کلوروفارم بو نے مجھے ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیا، پھر ان ظالموں نے مجھے ٹنگا ٹوری اٹھایا اور پولیس کی ڈاٹسن میں پٹخ دیا، پولیس نے مجھے اتنی مہلت بھی نہ دی کہ میں اپنی طوفانی اشیاء(وِگ،عینک،سائیکل)ساتھ لے جاتا۔ تھانے پہنچتے ہی سب سے پہلے ایک سپاہی کسی ٹیلر ماسٹر کی دوکان سے اٹھایا ہوا فیتہ ہاتھوں میں پکڑے میری قد کاٹھ،گردن اور دوسرے جسمانی اعضاء ماپنے لگا۔ میں دل ہی دل میں بڑا خوش ہوا کہ شاید مجھے پولیس میں بھرتی کیا جا رہا ہے، لیکن میری خوشی اس وقت کافور ہوگئی جب ایک سپاہی نے چہکتے ہوئے تھانیدار کو بتایا: ”سر جی قد کاٹھ،حرکات وسکنات اور کرتوتوں کے حساب تو مجھے اختر ہی چھلاوا نما بلاں لگتی ہے“۔میں نے سنتری سے کہا: ”یارخدا کا خوف کر و، میری ماں رات نو بجے کے بعد مجھے گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتی، بھلا اتنی رات گئے میں کسی اور کے گھر کیسے گھسوں گا؟“۔میں نے تھانیدار سے التجائی انداز میں پوچھا: بادشاہو مجھے کس جرم میں پکڑا گیا ہے ؟ وہ الٹا مجھے گھورتے ہوئے بولا:”تم نے جو نظریاتی نعرے کی تختی ”مجھے لڑکیوں سے سخت نفرت ہے“ اپنی سائیکل پر لگا رکھی ہے وہی تمہیں تفتیش کے دائرے میں لے آتی ہے کیونکہ بلاں کو بھی عورتوں سے شدید چڑ ہے۔خیرپولیس نے تفتیش کے طور پر ہمارے دوست اختر کو شناخت پریڈ کے بہانے بہت ستایا، اسے پہلے دن حوالات میں بند رکھا اور دوسرے دن علی الصبح دریا کنارے بنی چاند ماڑی پر چڑھا کر نیچے چھلانگ لگانے کا حکم دیا گیا تاکہ اختر کے پھرتیلے پن کا اندازہ لگایا جا سکے۔اس غیر انسانی سلوک پر اختر طوفانی انداز میں کُرلاتے ہوئے بولا:جناب مجھ غریب پر رحم کریں،چھلانگ لگانے سے آ پ کا تو کچھ نہیں بگڑے گا مگرٹانگ ٹوٹنے کی صورت میں میری واحد بے بی سائیکل یتیم ہو جائے گی باقی مجھ سے کوئی سی بھی قسم اٹھا لیں،میں بلاں نہیں ہوں۔ اختر نے اپنی ناک پر انگلی رکھتے ہوئے اپنے دونوں نتھنوں کو سختی سے بھینچا اور دریا میں گرنے والے گندے نالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:”مجھے قسم ہے دریا میں گرنے والے اس گندے نالے کی اگر میں جھوٹ بولوں تو اللہ مجھے سیاست دان یا کسی قریبی پولیس چوکی کا تھانیدار بنا دے، جناب میرا اُس عفریت سے دور دور تک کا واسطہ نہیں،بلکہ اُس ذلیل نے تو میری شہرت کو بھی داغدار کیا ہے۔اتنی بڑی قسم اٹھانے پر پولیس بھی سوچنے پر مجبور ہو گئی دوسرااختر کی گرفتاری کے دوران بھی بلا ں نے اپنی نا زیبا اور مذموم حرکات جاری رکھی تھیں تب کہیں جا کر پولیس کااختر پر شک ختم ہوااور اسے باعزت بری کر دیا گیا۔اس واقعے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد پولیس نے بڑے ڈرامائی انداز میں بلاں کو پکڑ لیا اور پھر اُسی دن ہماری ویب سائٹ”اپنا ڈیرہ ڈاٹ کام“ پر بریکنگ نیوز آگئی: ”بھراؤ! ترسلی رکھو، بلا ں پکڑی گئی ھِیوے“۔ بلاں کے پکڑے جانے پر عورتوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس موقع پر ایک مظلوم شوہرنے کچھ اس قسم کا بیان دیا:”میرے لیے تو بلاں رحمت کا فرشتہ تھی، ستمبرکا پورا مہینہ میری بیوی نے نہ صرف سیر و شکر ہو کر کاٹا بلکہ میری ماں کی بھی دل کھول کر خدمت کی مگر افسوس کہ بلاں کے پکڑے جانے کی خبر سنتے ہی میری بیوی کے رویے نے یکسر پلٹا کھایا اور کسی سیاستدان کی طرح یو ٹرن لیتے ہوئے اس نے حسب عادت ا پنے دیرینہ مطالبے ”میڈا الگ گھر، الگ چُلہا(چولہا)، الگ رِدھا پکا, الگ جیب خرچ ہتھ تے رکھ۔۔.نیئں تاں وت تلی تے طلاق“ کی رٹ پھرسے لگانا شروع کر دی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی تحقیق سے پتہ چلا کہ:”وہ کوئی عفریت(بلاں وَلاں)نہیں تھی بلکہ علاقہ غیر سے آئے درجن کے قریب آدمیوں کا ایک گروہ تھا، جن کامقصد خواتین کو ڈرانا دھمکا نا، شہر بھر میں خوف و ہراس پھیلانا اورخوف و دہشت زدہ ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیدھے سادے ڈیرے والوں کو تعویز گنڈوں کے بہانے لوٹنا تھا۔ ایجنسیوں نے اس سے زیادہ کچھ نہ بتایا اور ہمیشہ کی طرح یہ دلچسپ کیس بھی سرد خانے کی زینت بنا دیا گیا۔ نوٹ: مجھے یاد ہے کہ اُن دنوں دہلی میں ہمارے دوست مکیش اسیجہ نے مجھے ایک کام سونپا تھا کہ اگر ہو سکے تو ڈیرہ میں ان کے آبائی گھر کی تصاویر کھینچ کر انہیں بھجوائی جائیں، اُن کے والدین دیکھنا چاہتے ہیں۔۔ یہ مائیکروسافٹ میسنجر کا زمانہ تھا، ان کی والدہ آن لائن ہوئیں اور بولیں: بچڑا! میڈے چھوٹے بزار آلے گھر دا کُجھ پتہ لایا ہیوی؟؟؟ اماں جی! فی الحال رمضان د امہینہ ھ، ہر کوئی مصروف ودے تے تیکوں مکیش ڈسایا ھ کہ اُتھاں بلاں آئی ودی ھ تے یکے دیرے وال آپ ڈرے ودن، پہلے بلاں پکڑی ونجے تاں وت کُجھ کریندے ہیں۔۔ اچھا بچڑا کوئی چنتا دی گال کونیں، میں بھگوان کول دعا منگساں جو بلاں جلدی پکڑی ونجے“۔آمین۔۔ ہا ہا۔۔ ماخوز:”گُلی کملی کے دیس میں“

Wednesday, 29 June 2022

بہادر شاہ ظفر کا دستر خوان

مغلیہ دور کے آخری حکمران بہادر شاہ ظفر کا دستر خوان اس وقت کے شاہی دستر خوانوں میں قدرے مقبول ہوا کرتا تھا۔ آپ کے بتاتے ہیں اس اس دستر خوان میں کیا کیا شامل ہوتا تھا
"چاولوں میں" یخنی پلاؤ، موتی پلاؤ، نکتی پلاؤ، نورمحلی پلاؤ، کشمش پلاؤ، نرگسی پلاؤ، لال پلاؤ، مزعفر پلاؤ، فالسائی پلاؤ، آبی پلاؤ، سنہری پلاؤ، روپہلی پلاؤ، مرغ پلاؤ، بیضہ پلاؤ، انناس پلاؤ، کوفتہ پلاؤ، بریانی پلاؤ، سالم بکرے کا پلاؤ، بونٹ پلاؤ، کھچڑی، شوالہ (گوشت میں پکی ہوئی کھچڑی) اور قبولی ظاہری۔ "سالنوں میں امید ہے میری طرح آپ نے یہ نام بھی نہ سنے ہوں گے" قلیہ، دوپیازہ، ہرن کا قورمہ، مرغ کا قورمہ، مچھلی، بینگن کا بھرتا، آلو کا بھرتہ، چنے کی دال کا بھرتہ، بینگن کا دلمہ، کریلوں کا دلمہ، بادشاہ پسند کریلے، بادشاہ پسند دال، سیخ کباب، شامی کباب، گولیوں کے کباب، تیتر کے کباب، بٹیر کے کباب، نکتی کباب، خطائی کباب اور حسینی کباب شامل ہوتے تھے۔ "روٹیوں کی یہ اقسام شاید آپ نے انٹرنیٹ پر بھی نہ دیکھی ہوں" ۔ چپاتیاں، پھلکے، پراٹھے، روغنی روٹی، خمیری روٹی، گاؤدیدہ، گاؤ زبان، کلچہ، غوصی روٹی، بادام کی روٹی، پستے کی روٹی، چاول کی روٹی، گاجر کی روٹی، مصری کی روٹی، نان، نان پنبہ، نان گلزار، نان تنکی اور شیرمال۔ "میٹھے کی طرف نظر ڈالیے" ۔متنجن، زردہ مزعفر، کدو کی کھیر، گاجر کی کھیر، کنگنی کی کھیر، یاقوتی، نمش، روے کا حلوہ، گاجر کا حلوہ، کدو کا حلوہ، ملائی کا حلوہ، بادام کا حلوہ، پستے کا حلوہ، رنگترے کا حلوہ۔ "مربے ان قسموں کے ہوتے تھے" ۔ آم کا مربا، سیب کا مربا، بہی کا مربا، ترنج کا مربا، کریلے کا مربا، رنگترے کا مربا، لیموں کا مربا، انناس کا مربا، گڑھل کا مربا، ککروندے کا مربا، بانس کا مربا۔ "مٹھائیوں کی اقسام یہ تھیں" ۔ جلیبی، امرتی، برفی، پھینی، قلاقند، موتی پاک، بالو شاہی، در بہشت، اندرسے کی گولیاں، حلوہ سوہن، حلوہ حبشی، حلوہ گوندے کا، حلوہ پیڑی کا، لڈو موتی چور کے، مونگے کے، بادام کے، پستے کے، ملاتی کے، لوزیں مونگ کی، دودھ کی، پستے کی بادم کی، جامن کی، رنگترے کی، فالسے کی، پیٹھے کی مٹھائی اور پستہ مغزی۔ یہ مزےدار رنگا رنگ کھانے سونے اور چاندی کی قابوں، رکابیوں، طشتریوں اور پیالوں پیالیوں میں سجے اور مشک، زعفران اور کیوڑے کی خوشبو سے مہکا کرتے تھے۔ چاندی کے ورق الگ سے جھلملاتے تھے۔ کھانے کے وقت پورا شاہی خاندان موجود ہوتا تھا۔ (انتظار حسین کی کتاب ،،دلی جو ایک شہر تھا،، سے اقتباس)

Sunday, 10 January 2021

وٹس ایپ پرائیویسی اس وقت سوشل میڈیا پر ایک ہیجان کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے. لوگ پریشان ہیں کہ وٹس ایپ اب انکے کالے کرتوت لیک کر دے گا. دھڑا دھڑ ٹیلی گرام جیسی ایپس کی ڈاؤنلوڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے. لیکن فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. ایسا کچھ نہیں ہونے والا جو آپکو بتایا جا رہا ہے. کہانی کو ابتدا سے شروع کرتے ہیں تاکہ آپ لوگوں کو بھی سمجھ آسکے کہ اصل میں کیا ہوگا؟ کیوں ہوگا؟ کیسے ہوگا؟ ایک دفعہ کا ذکر ہے! شروعات ہوتی ہے ایپل کی اپنے یوزر کی پرائیویسی پروٹیکشن اپڈیٹ سے. یہاں یاد رکھیں فیس بک نے وٹس ایپ کو کئی سال پہلے ہی خرید لیا ہے. ایپل کے مطابق بہت ساری ایپس ایسی ہیں جو یوزر کے علم میں آئے بغیر انکا ڈیٹا دوسری ایپلیکیشن میں ٹریک کرتی ہیں. اب دوسری ایپس میں کیا ڈیٹا ٹریک ہوتا ہے. فیس بک کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ اشتہارات ہیں. لیکن فیس بک کو اشتہارات کیوں ملتے ہیں؟ کیونکہ فیس بک کو یوزر کی پسند نا پسند کا پتا ہے. انکو پتا ہے کہ انکا یوزر کس چیز کے بارے میں بات کرنا پسند کرتا ہے. کس چیز کو لائک کرتا ہے. کیسی پوسٹ اور کمنٹس کرتا ہے. لیکن فیس بک پر ایک مسئلہ ہے. کہ آپ وہاں ایسی چیزیں نہیں سرچ کرتے جو گوگل پر کرتے ہیں. یعنی مجھے آئی پیڈ کا سکرین پروٹیکٹر چاہیے تو میں وہ فیس بک پر تو سرچ نہیں کرونگا نا. میں کسی بروزر میں جاؤں گا قوی امید ہے کہ میں کروم بروزور میں جاؤں گا. یا کوئی بھی بروزور ہو گوگل سرچ میں جا کر لکھوں گا. کہ آئی پیڈ سکرین پروٹیکٹر ان پاکستان یا اس سے ملتی جلتی کوئی ٹرم سرچ کرونگا. یہاں ایک خوبصورت بات جان لیجیے کہ فیس بک ہماری سرچ ہسٹری ٹریک کرتا ہے. ویبسائٹس کے جو کیشے یا کوکیز ہوتی ہیں وہ انکو ٹریک کرتا ہے. جسے آکراس دا ایپ ٹریکنگ کہا جاتا ہے. یا آکراس دا ویبسائٹس ٹریکنگ بھی کہہ لیں. یعنی فیس بک اپنی ایپلیکیشنز پر تو آپکی ٹریکنگ کرتا ہی ہے. وہ دوسری کمپنی کی ویبسائٹس اور ایپس پر بھی آپکی ٹریکنگ کرتا ہے. مثال کے طور پر میں ایک دن وائی فائی راؤٹر کے بارے میں کروم بروزور میں سرچ کیا. کچھ ہی دیر بعد مجھے فیس بک پر ایک راؤٹر کا ایڈ ملنے لگا. اسی طرح میں نے ایک سمارٹ بینڈ کے بارے میں سرچ کیا. تو کچھ ہی گھنٹے بعد مجھے ایک ایسا اشتہار ملا جو سمارٹ بینڈ پر مبنی تھا. اب ظاہر ہے میں یہ چیزیں فیس بک پر تو سرچ ہی نہیں کر رہا تھا. تو فیس بک کو کیسے پتا چلیں. اسکا جواب ہے کہ فیس بک ایپ ہر وقت ہماری انٹرنیٹ ایکٹیویٹیز دوسری ایپس پر ٹریک کرتی رہتی ہے. کیوں کرتی ہے. اس لیے کہ وہ یوزر کی پسند کو جان سکے اور اسی حساب سے اشتہارات دکھائے. اب مجھے آئی پیڈ پرو کا پروٹیکٹر لینا ہے. اور فیس بک مجھے وہی پروٹیکٹر کا اشتہار دکھا رہا. تو ظاہر ہے میرے اس اشتہار پر کلک کرنے کے چانسز بڑھ جائیں گے. اشتہار پر کلک ہوگا تو ظاہری بات ہے. خریداری کے چانسز بھی بڑھ جائیں گے. اب اگر ایک کمپنی کی خریداری فیس بک ایڈز کی وجہ سے زیادہ ہو رہی ہے. تو وہ فیس بک پر زیادہ مارکیٹنگ کرے گی. فیس بک پر مارکیٹنگ کا مطلب فیس بک کے پرافٹ میں اضافہ ہوگا. بہت ہی سادہ سی سائینس ہے. کہ فیس بک آپکو وہ اشتہار دکھانا چاہتا ہے. جو آپکے لیے سب سے زیادہ ٹھیک ہو. میرے پاس فرض کیا رئیل می سات پرو موبائل ہے. فیس بک پر مجھے ایک ایسا ایڈ ملے جس میں سامسنگ کے فون کا کیس ہو تو میں اس پر کلک تو نہیں کرونگا. ہاں اگر وہ کیسنگ اسی فون کی ہو جو میں استعمال کر رہا ہوں تو ظاہر ہے اس پر کلک کرنے کے چانسز بڑھ جائیں گے. اب یہ سوال تو کلئیر ہوجانا چاہیے کہ فیس بک ٹریکنگ کیوں کرتا ہے. اب واپس چلتے ہیں کہ ایپل نے اعلان کیا ہے کہ یوزر کو یہ اختیار دینا چاہیے کہ وہ فیس بک جیسی ایپس کو اپنی انٹرنیٹ ایکٹیویٹیز کو ٹریک کرنے کی اجازت خود دیں یا نا دیں. اب صارفین کے لیے تو یہ چیز خوش آئند ہے. کہ فیس بک یا اس طرح کی مزید پرائیویسی کی ڈاکو ایپس انکی سرگرمیاں انکی مرضی کے بغیر ٹریک نہیں کر پائیں گی. لیکن فیس بک کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے. کہ وہ اب کس طرح رائٹ پرسن تک رائٹ ایڈ پہنچائیں گے. یعنی اگر انکو علم ہی نہیں کہ میں نے کسی دوسرے بروزور میں کیا سرچ کیا ہے. میں نے ای کامرس سٹور پر کیا چیز پسند کی ہے. میں نے یوٹیوب پر کیا دیکھا ہے یا سرچ کیا ہے. تو وہ گھی سرچ کرنے والے بندے کے پاس ہوسکتا ہے فیس لوشن کا اشتہار دکھائیں. اب مجھے گھی چاہیے تو میں ظاہر ہے فیس لوشن پر کلک نہیں کرونگا. اور اگر فیس لوشن کے اشتہار پر کلک نہیں کرونگا تو فیس لوشن والی کمپنی کے اشتہارات تو لوگوں تک پہنچ رہے ہیں لیکن ان پر کلک نہیں ہو رہا. تو ظاہر ہے وہ مارکیٹنگ کا بجٹ کم کریں گے. یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر جا کر مارکیٹنگ کریں گے. مطلب فیس بک کے پرافٹ میں کمی آئے گی. اسکے لیے فیس بک کو بھی ظاہر ہے اقدام اٹھانے پڑیں گے. وہ آج کے پرافٹ کو دیکھ کر خوش ہوجائیں اور فیوچر نا دیکھیں تو ظاہر ہے انکی کمپنی نہیں چلے گی. انکو نظر آرہا ہے. کہ جب ٹھیک شخص تک ٹھیک اشتہارات نہیں پہنچیں گے تو مارکیٹنگ کمپنیاں فیس بک پر ایڈز نہیں دینگی. تو فیس بک کا زوال شروع ہوجائے گا. اس سے بچنے کے لیے پہلے تو انھوں نے ایپل کے خلاف بھرپور مہم چلائی. ایپل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا. انکا کہنا تھا کہ the changes will limit businesses ability to run personalized ads and reach their customers effectively. ترجمہ: یہ تبدیلی کاروبار میں مندی کا موجب بنے گی یوزر کی طبیعت کے مطابق اشتہارات کم ہوجائیں گے جس کی وجہ سے انکا اثر کم ہوجائے گا. جبکہ ایپل نے اسکے مقابلے میں یہی کہا کہ We believe that this is a simple matter of standing up for our users. Users should know when their data is being collected and shared across other apps and websites and they should have the choice to allow that or not. ترجمہ: ہمیں یقین ہے کہ یہ صرف اپنے صارفین کے حق میں کھڑا ہونا ہے. صارفین کو علم ہونا چاہیے کہ انکا ڈیٹا دوسری ایپس اور ویبسائٹس سے ٹریک ہو رہا ہے اور انکے پاس اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اسے روک دیں یا اجازت دیں. پھر اسکے مقابلے میں فیس بک نے کمپین چلائی کہ ایپل انٹرنیٹ کو فری نہیں رکھنا چاہتا. یعنی کہ ایپل دباؤ ڈال رہا کہ فیس بک اپنے یوزرز سے سب کرپشن چارجز لے. یا ان ایپ پرچیز شروع کر دے. اب ظاہر ہے ایپل تو رکنے والا ہے نہیں. وہ تو یوزرز کو یہ اختیار دے گا کہ فیس بک انکا ڈیٹا ٹریک کرے کہ نا کرے. اب فیس بک کے پاس کیا آپشن ہے. وہ فیس بک چلانے کی فیس لے. نیٹ فلیکس کی طرح آپکو مہینے کے پیسے فیس بک کو دینے پڑیں گے. اب فیس بک کو بھی پتا ہے. کہ یہ بزنس ماڈیول چل نہیں سکتا. جس دن سے فیس بک سب کرپشن چارجز لینا شروع کریں گے. وہ آدھے سے زیادہ یوزرز لوز کر دینگے. اب اسکا متبادل کیا ہو سکتا ہے. فیس بک کے پاس انسٹاگرام فیس بک میسنجر اور وٹس ایپ موجود ہیں. وٹس ایپ خریدنے کے بعد فیس بک نے اسے اشتہارات اور ٹریکنگ سے پاک رکھنے کا فیصلہ کیا تھا. لیکن ڈیڑھ ارب سے زیادہ لوگ وٹس ایپ استعمال کرتے ہیں. جب فیس بک کے پاس دوسری ایپس سے ڈیٹا ٹریکنگ کا اختیار ختم ہوگا. بیک اپ میں اسکی اپنی ایپس موجود ہیں. جو کہ ایک وسیع تعداد میں یوزر رکھتی ہیں. اب فیس بک کے پاس دو آپشن ہیں. وٹس ایپ میں اشتہارات دکھانا شروع کر دے. یا وٹس ایپ ڈیٹا کو فیس بک اشتہارات کے استعمال میں لائے. تو فیس بک نے وٹس ایپ ڈیٹا کو اسی استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ہے. جس استعمال میں وہ پہلے دوسری ایپس سے ڈیٹا ٹریک کرتا تھا. یعنی اب وہ وٹس ایپ پر کی گئی چیٹ کو ٹریک کرے گا. مثال کے طور پر میں اگر وٹس ایپ پر اپنے دوست کو لکھتا ہوں کہ مجھے پیزا پسند ہے. میرے لیے یہ بس ایک جملہ ہے. لیکن فیس بُک جیسی کمپنیوں کے لیے یہ منافع کمانے کا ذریعہ ہے. وہ فوراً مجھے پیزا کا اشتہار دکھائیں گے. آنلائن ہمارا ایک ایک لفظ کمپنیوں کے لیے قیمتی ہوتا ہے. آپ کیمبریج اینالیٹیکا سکینڈل پڑھ سکتے ہیں. جس میں فیس یوزر کا ڈیٹا امریکن الیکشن کمپین میں استعمال کیا گیا. جس کی وجہ سے فیس بک کو جرمانہ بھی ہوا مارک زنگر برگر کو کانگریس کے سامنے پیش ہو کر وضاحت بھی دینی پڑی. بہرحال، اب پرائیویسی پالیسی میں ہوگا یوں کہ آپکا بھیجا ہوا ڈیٹا وٹس ایپ سرور پر ڈاؤن لوڈ ہوگا. یعنی ٹریک ہوگا. آپکی چیٹس،آپکے گروپس، آپکے فون کا ماڈل، آپریٹنگ سسٹم، وغیرہ ٹریک کرے گا. اس سے فیس بک کو کیا فائدہ ہوگا. یہی کہ انکو پتا لگے گا کہ آپکا فیورٹ گروپ کونسا ہے. آپ کو کیا پسند ہے. کس بارے زیادہ بات کرتے ہیں. کس چیز کے بارے میں آپ فوٹو لگاتے ہیں. سٹیٹس کس طرح کے ہوتے ہیں. ڈی پی کیسی ہے. اب اسکا فیس بک کو یہی فائدہ ہوگا کہ وہ یہ ڈیٹا فیس بک پر اشتہارات میں استعمال کرے گا. یعنی میں وٹس ایپ پر لکھتا ہوں کہ مجھے پیزا پسند ہے. تو وہ مجھے پیزا کے ریلیٹڈ اشتہار دکھائیں گے. وٹس ایپ جب انکو بتائے گا کہ میرے پاس نوکیا تینتیس دس ہے. تو وہ مجھے نوکیا تینتیس دس کی کیسنگ، پروٹیکٹر چارجر ہینڈفری کے اشتہار زیادہ دکھائیں گے. اس میں یوزر کو فائدہ تو خاص نہیں ہوگا سوائے اسکے کہ اسکو اپنی پسند کے اشتہارات ملیں گے. ہاں نقصان یہی ہے کہ اب انکا ڈیٹا personalized ads میں استعمال ہوگا. باقی اس چیز کی فکر نا کریں کہ آپکے نیلے پیلے کرتوت وٹس ایپ والے لیک کر دینگے. ایسا کچھ نہیں ہوگا. باقی آپ چاہئیں تو وٹس ایپ کی بجائے کوئی دوسری ایپ استعمال کر سکتے ہیں. خاص طور پر ٹیلی گرام جیسی ایپ استعمال کی جا سکتی ہے. لیکن وٹس ایپ کی پرائیویسی اپڈیٹ میں ایسا کچھ نیا نہیں ہے جو وہ پہلے فیس بک کی صورت میں نا کر رہے ہوں. دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپی یونین کے 27 ممالک اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے یورپی ممالک نے حال ہی میں جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن( جی ڈی پی آر) متعارف کرایا ہے جس کے تحت تمام کمپنیوں کو صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ اور یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے خواہ وہ کمپنی دنیا کے کسی بھی ملک میں واقع ہوں.

Tuesday, 15 September 2020

بھیڑیا کے بارے میں دلچسپ معلومات

 ‏بھیڑیا واحد جانور ھے

جو اپنے والدین کا انتہائی وفادار ھے

یہ بڑھاپے میں اپنے والدین کی خدمت کرتا ھے۔

یہ ایک غیرت مند جانور ھے اسلئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑیے سے تشبیہ دیتے ھیں.‏" بھیڑیا" واحد ایسا جانور ھے جو اپنی آزادی پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرتا اور کسی کا غلام نہیں بنتا بلکہ جس دن پکڑا جاتا ہے اس وقت سے خوراک لينا بند کر ديتا ہے اس لئۓ اس کو کبھى بھى آپ چڑيا گھر يا پھر سرکس ميں نہيں ديکھ پاتے اس کے مقابلے ميں شیر ، چيتا ، مگر مچھ اور ھاتھى سمیت ہر جانور کو غلام بنایا جا سکتا ھے۔‏


بھیڑیا کبھی ﻣٌﺮﺩﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ کھاتا اور یہی جنگل کے بادشاہ کا طریقہ ھے اور نہ ہی بھیڑیا محرم مؤنث( والدہ، بہن) پر جھانکتا ھے یعنی باقی جانوروں سے بالکل مختلف بھیڑیا اپنی ماں اور بہن کو شہوت کی نگاہ سے دیکھتا تک نہیں۔‏بھیڑیا اپنی شریک حیات کا اتنا وفادار ہوتا ھے کہ اس کے علاؤہ کسی اور مؤنث سے تعلق قائم نہیں کرتا۔ اسی طرح مؤنث( یعنی اس کی شریک حیات) بھیڑیا کے ساتھ اسی طرح وفاداری نبھاتی ھے۔‏بھیڑیا اپنی اولاد کو پہنچانتا ھے کیونکہ ان کے ماں و باپ ایک ہی ہوتے ہیں۔۔۔ جوڑے میں سے اگر کوئی ایک مرجائے تو دوسرا مرنے والی جگہ پر کم از کم تین ماہ کھڑا بطور ماتم افسوس کرتا ھے۔‏بھیڑئیے کو عربی زبان میں "ابن البار" کہا جاتا ہے، یعنی"نیک بیٹا" کیونکہ جب اس کے والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے لئے شکار کرتا ھے اور ان کا پورا خیال رکھتا ھے۔‏اس لئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑئیے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ انکا ماننا ھے کہ 

"شیر جیسا خونخوار بننے سے بہتر ھے بھیڑیے جیسا نسلی