Friday, 27 January 2017

شہر پروآ کے نکاسی آب پرخصوصی رپورٹ

منتخب نمائندوں کی عدم توجہ کے باعث پروآ شہر میں نکاسی آب کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا.شہر میں قائم بڑےبڑے گندے پانی کے جوہڑ عوام کیلئے دردسر بن گئے.مختلف قسم کی بیماریاں پھیلنے کے ساتھ ساتھ مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے.گزشتہ دنوں ہونے والی بارشوں کے نتیجہ میں شہر پروآ میں مختلف.مقامات پر واقع جوہڑ پانی سے بھر گئے نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہونے کے باعث عوام کا گلیوں سڑکوں اور اڈے پر سے گزرنا تک محال ہو چکا ہے.جمیعت علماء اسلام کے حلقہ ایم پی اے لطف الرحمن نے اولین بنیاد پر شہر کا نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے کے نام پر یہاں پروآ کی عوام سے ووٹ حاصل کیا تھا لیکن کئی سال گزرنے کے بعد بھی نکاسی آب کا مسئلہ جوں کا توں ہی ہے.تحصیل ناظم پروآ نے بھی منتخب ہونے کے بعد فی الفور اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن تحصیل نظامت کی کرسی سنبھالنے ٹی ایم اے کے تعاون کے ساتھ پروآ اڈے پر موجود مین نکاسی آب کے نالے کی صفائی کی گئی جوکہ عوام کو فائدہ دینے کے بجائے الٹا نقصان کا باعث بنی ہوئی ہے.نالے کی سلیٹیں تا حال صحیح طرح سے نہیں رکھی گئیں.مختلف مقامات پر نالے کے اوپر سلیٹیں ہی موجود نہیں ہیں جوکہ کئی ہر وقت انسانی موت کو دعوت دے رہا ہے جبکہ کئی ایک بار حادثات بھی پیش آچکے ہیں مزید نقصانات کا خدشہ بھی ہے.بارش کے بعد انڈس ہائی وے کا سارا پانی متعلقہ نالے میں داخل ہوتا ہے اور نالے کی صفائی اور مکمل مرمت نہ ہونے کا باعث سارا پانی نالے میں ہی جمع ہوتا ہے اور پانی کہ مقدار زیادہ ہونے پر نالے سے باہر آجاتا ہے اور روڈ کی تہہ میں داخل ہوکر روڈ کو نقصان پہنچاتا ہے جسکی وجہ سے پروآ اڈا کے روڈ پر کئی مقامات پر دلدل پیدا ہو جاتی ہے اور روڈ نیچے کی جانب بیٹھ جاتا ہے.دوسری جانب پروآ شہر کی گلیوں میں بھی نکاسی آب نام کی کوئی چیز تک.موجود نہیں ضلع نائب ناظم کی اپنی گلی بھی بارش کے بعد ہفتوں تک پانی سے بھری رہتی ہے اور عوام خاص کر خواتین و بوڑھے سخت تکلیف کا.شکار رہتے ہیں گلی سے گزرنے کیلئے دیواروں کا استعمال کیا جاتا ہے.چھودھواں موڑ سے لیکر گرلز ہائر سیکنڈری سکول تک متعلقہ سڑک بارش کے بعد جل تھل بن جاتی ہے اور طلبات پانی اور کیچڑ میں سے گزر کر تعلیم حاصل کرنے کیلئے جاتی ہیں جبکہ گرلز ماڈل سکول بھی اسی راستے پر موجود ہے.شہر پروآ بارش کے بعد مکمل طور پر کیچڑ اور پانی سے بھر جاتا ہے اور عوام ہفتوں تک زلیل و خوار ہوتی رہتی ہے پروآ.شہر سے ملحقہ دیہاتوں کی عوام بھی روزمرہ کاموں کیلئے بھی شہر کا رخ رکتی ہے اور سارا دن کیچڑ میں چل کر سیاسی نمائندوں کو میٹھے میٹھے الفاظ اور دعاؤں کا تحفہ دیتی رہتی ہے.

Sunday, 22 January 2017

یوسی نائیویلہ کی پسماندگی اور عوام کی دم توڑتی امیدیں


تحصیل پروآ کی درجنوں دیہاتوں سے منسلک کثیر تعداد آبادی اور وسیع کاروباری حب یونین کونسل نائیویلہ آج بھی حقیقی مسیحا کی منتظر ہے.بلدیاتی الیکشن میں عوام نے نامزد ہونے والے نمائندوں سے بہت سی امیدیں وابسطہ کر لی تھیں.لیکن عوام کی ان نمائندوں سے وابسطہ امیدیں ان مے منتخب ہونے کے فورا بعد ہی دم توڑ گئیں کیونکہ
بلدیاتی الیکشن میں متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تحصیل ممبر خالد حمید
اور ضلع ممبر ناصر خان کو عوام نے کامیاب کروایا تاکہ متوسط طبقہ سے
تعلق رکھنے والے موصوف ان کی داد رسی اور آج تک جو پسماندگی ملی
اس پسماندگی کا اذالہ کرکے یونین نائیویلہ کی عوام کو خوشحالی طرف
دھکیلیں گے لیکن جس طرح 2003 میں تحصیل کا خواب پورا ہوا لیکن آج تک پروآ
کی عوام اندھیروں کی زندگی بسر کر رہی ہے اور ہیڈ کوارٹر پروآ کی عوام پینے کے صاف
پانی بجلی نکاسی آب سمیت تعلیم و صحت جیسےمسائل سے دوچار ہے اسی طرح نائیویلہ کی
عوام کا خواب تھا کہ وڈیرہ ازم اور ذاتی مفادات حاصل کرنےوالے وڈیروں سے چھٹکارہ حاصل کرکے متوسط طبقہ سے تعلق
رکھنے والے لوگوں کو اقتدار کی راہ دیکھائیں تاکہ عوامی مسائل دہلیز پر
حل ہوسکیں لیکن یونین نائیویلہ کی عوام کا خواب فقط خواب ہی رہا اور سارا معاملہ الٹا ہوگیا کیونکہ تحصیل ممبر  خالد حمید جو
عوام کی خاطر ہر میدان میں سب سے پہلے نظر آتے اور بے سود دھرنے بھی دے
دیتے لیکن کسی سرائیکی دانشور نے خوب کہا کہ (نکھتا تماں کیہاں
اماں؟)مطلب جب تک ووٹ کا مطلب تھا تو سب مسائل کی جنگ لڑتا نظر آتا جب
تحصیل ممبر بنا تو عوام سے نظریں چرانے لگا. گزشتہ روز کی طوفانی بارش سے لوگوں
کے گھروں و فصلات کو شدید نقصان پہنچا لیکن تحصیل ممبر خالد حمید چکر تک
نہ لگا سکا اسی طرح یونین نائیویلہ میں  آنے والے تقریبا اٹھارہ دیہات جن
میں  گرہ طاہر گرہ موسی گرہ غوث شاہ گرہ عاشق جھوک رمضان  جھوک مسو گرہ
رشید سمیت ملیکھی وغیرہ شامل ہیں جن میں نہ پینے کا صاف پانی ہے نہ راستہ
نا پختہ گلیاں نہ تعلیم کا کوئی بہتر نظام نہ صحت کا نظام ایک بی ایچ یو
ہے گرہ رشید میں جہاں لوگ پاخانہ کرنے جاتے ہیں اور علاقہ کی لٹرین کا
نظام چلا رہی ہے لیکن آج تک تحصیل و ضلع ممبر اس بی ایچ یو کا دورہ بھی
نہ کر سکے آخر لوگوں نے ان کو ووٹ کیوں دیا؟
تحصیل.ممبر تو صرف اور صرف سرائکی کے نعرے لگانے تک محدور ہوکر رہ گئے ہیں.عوام نے ووٹ اس لئے دیا تھا کہ لوگوں
کے حقوق کا خیال  کرکے ان کے مسائل حل کریں جبکہ تحصیل و ضلع ممبر اس کے
کچھ برعکس چل پڑے یونین نائیویلہ کی عوام نے اطلس خان شوکت حاجی سیدو
وغیرہ کو پشت پر ڈال کر ان کو کامیاب کروایا لیکن تحصیل ممبر  عوام کے
بجائے ان ہارے ہوئے لوگوں کے چرن چھوتا نظر آتا ہے عوام صاف پانی سے
محروم ہے. لاکھوں روپے تحصیل بجٹ  بھی ملا جو آج تک معلوم نہیں کہ نے کہاں لگایا لگایا گیا ہے. اسی طرح ضلع
ممبر ناصر خان جو تقریبا عرصہ دراز سے لا پتہ ہے کہ کہاں ڈیرہ جما رکھا
ہے گزشتہ روز مثل خیبر ٹیم نے ایک سروے کیا تو چند لوگوں نے
کہا کہ الیکشن کے بعد ہم نے موصوف کو نائیویلہ اڈہ پر دیکھا جبکہ 98 فیصد
لوگوں نے کہا پنجاب ہیں اور شاید وہاں الہ دین کا چراغ ڈھونڈ کر لائیں گے
اور چند دن میں عوامی مسائل ایک رگڑ سے حل کر دیں گے کیونکہ یوسی
نائیویلہ سے لی گئی تصویریں یہ واضح بتا رہی ہیں کہ سرکاری عمارتیں سمیت
لوگوں کے گھر گلیاں کوئی چیز بھی قدرتی آفات مطلب تھوڑی بارش یا سیلاب سے
محفوظ نہیں.امید ہے کہ پروآ سرکل کی طرح یوسی.نائیویلہ کے بھی مسائل.کبھی حل نہ ہوسکیں گے کیونکہ ہر بار الیکشن میں عوام نئے امیدواروں سے.کئی قسم کی امیدیں وابسطہ کرکے انہیں کامیاب کراتی ہے اور پھر الیکشن کے بعد پورے دور حکومت انہیں تلاش کرنے اور ملاقات کی کوشش میں گزار دیتی ہے.

Monday, 2 January 2017

سيکھو تو ترکی عوام سی

وہ قوم  کبھی بھی ترقی اور امن امان کا گہوارہ اپنے ملک کو نہیں بنا سکتی جس میں زمہ درانہ اہلیت نہ ہونے کے برابر ہو اور ماشاء اللہ ایسے لوگوں سے تو پاکستان کا ہر ہر شعبہ بھرا پڑا ہے پہر وہ چاہے صحافت ہو یا سیاست، امیر سے غریب اور عام سے خاص، ہمارا رہڑی والا بھی غیرسنجیدہ و غیر زمہ دار ہے اور ہمارا وزرات عظمی جیسے اعلی منصب پر براجمان بھی اسی بیمار میں مبتلا ہے کیونکہ ہم سب کو اپنا الو سیدھا کرنا ہے کسی کا کیا۔ جاتا ہے تو جائے۔
گزشتہ دنوں ترکی میں ناکام بغاوت کی کوشش کی گئی جس کو الحمد اللہ ثم الحمداللہ وہاں کی غیور اور بہادر قوم نے نہ صرف ناکام بنایا بلکہ ان غداروں کی ایسی دھلائی کی کہ وہ آئیندہ آنے والی نسلوں تک کو بغاوت نہ کرنے کا درس دیتے رہینگے مگر پاکستان میں کچھ نام نہاد میٹھایاں بانٹنے کی بات کرتے تو کچھ اس پورے واقع کو طیب ارودغان کی سازش قرار دینے میں لگے ہوئے ہیں جو کہ سرے سے ہی مجھے بھونڈی قسم لگتی ہے اچانک خبر آئی کہ فوجیوں نے باسفورس برج کو ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں سے بند کئے رکھاہے۔ اِسی طرح استنبول میں آتاترک ائیرپورٹ پر بھی فوجیوں کے قبضہ کی خبر ملی  باغی فوجیوں پر مشتمل ایک ٹولہ اسلحہ سے لیس ترکی کے دارلحکومت انقرہ میں آرمی ہیڈکواٹرز آرمی چیف آف اسٹاف خلوصی آکارلر کے آفس میں زبردستی داخل ہوا۔ جب آرمی چیف کے گارڈز نے باغیوں کو روکنے کی کوشش کی تو باغیوں نے اُن پر گولی چلاکر آرمی چیف آف اسٹاف کے گارڈز کو گولیوں سے چھلنی کردیا۔ اُن باغیوں نے خلوصی آکارلر سے یہ مطالبہ کی کہ اُن کا ساتھ دے کر حکومت کی برطرفی کے الٹی میٹم پر دستخط کریں تو اس نے اِس مطالبے سے صاف انکار کیا اِس پر اُن لوگوں نے خلوصی آکارلر کے گن پٹی پر پستول رکھ کر زبردستی اپنے گھٹنوں پر بیٹھنے پر مجبور کیا اور ایک باغی آفسر نے اپنی بیلٹ نکال کر اُن کا گلادبایا تاکہ وہ مجبور ہوکر اُلٹی میٹم پر دستخط کریں مگر اُنھوں نے اِس کے باوجود نہیں مانا تو اُن کو اور آرمی ہیڈکوارٹرز میں موجود دوسرے فورس کمانڈروں کو گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی اور چھاؤنی میں لے گئے۔آرمی ہیڈگوارٹرز میں باغی فوجی ٹولے اور چیف آف آرمی اسٹاف کے حامی فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ جب خلوصی آکارلر بغاوت کے خاتمہ کے بعد ٹی وی پر دکھائی دیئے تو اُن کے گردن پر اُس بیلٹ کا نشان واضح طور پر نظر آرہاتھا باغی فوجیوں کے ایک اور ٹولے نے ایک باغی جنرل کی قیادت میں آرمی اسپیشل فارسز کے ہیڈکوارٹر میں اسپیشل فارسزکے کمانڈر میجر جنرل ذکائی آق صاقاللی کو گرفتار کرکے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرنا چاہا تاکہ وہ لوگ اسپیشل فارسز کو اِس بغاوت میں استعمال کرسکیں مگر میجر جنرل ذکائی آق صاقاللی کے ایڈجوٹنٹ نے یہ سن کر ایک پل بھی ضائع کئے بغیر اپنا پستول نکالا اور باغی جنرل پر گولی چلادی  یہ دیکھ کر باغی جنرل کے ساتھیوں نے بھی اُن پر گولیاں چلاکر اُنھیں قتل کردیا مارشل لاء اور بغاوت کی خبریں آنے پر ترکی پارلیمنٹ کے تمام پارٹیوں کے ممبران جو انقرہ میں تھے پارلیمنٹ میں جمع ہوئے تاکہ بغاوت کے خلاف ایک قرارداد پاس کرسکیں اُس وقت رات کے اُس پہر میں ڈیڑھ سو سے زائد پارلیمنٹ کے ممبر مذاکرات کے ہال میں اکھٹے ہوئے جن میں ترکی کے سیکولر خیالات و تصورات کے علم بردار ، رجب طیب ایردوغان کے سخت مخالف جمہوری خلق پارٹی کے ممبر بھی شامل تھے۔ اِس کی اطلاع ملتے ہی باغی فوج نے ایف ۱۶ بھیج کر ترکی کی پارلیمنٹ پر بمباری کرادی اِس اثناء میں صدر رجب طیب ایردوغان چھٹیوں کے لیے ترکی کے مارماریس شہر کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے اطلاع ملتے ہی فورا نکلے اُن کے ہوٹل سے الگ ہونے کے پندرہ منٹ بعد باغی فوج کے اسپیشل فورسز کے چالیس سپاہیوں نے ہوٹل میں بم بھی پھینکا اور فائرنگ بھی کی بغاوت کی ناکامی کے بعد اسپیشل فورس کے چالیس سپاہی جنگل کی طرف بھاگ نکلے صدر کی حفاظت پر مامورجنرل، جو اُس دوران انقرہ میں تھا، وہ بار بار صدر مملکت کے ساتھیوں کو فون کرکے صدر کے ہوائی جہاز کا روٹ دریافت کرنا چاہا رہا تھا مگر اُن لوگوں کی عقلمندی معلومات دینے سے انکار کردیا پھر معلوم ہوا کہ وہ جنرل بھی اِس بغاوت کا حصہ تھا  اور اطلاعات کے مطابق گرفتار بھی ہوچکا ہے آرمی ہیڈ کوارٹرز اور آرمی اسپیشل فورسز کے ہیڈکوارٹرز کے ساتھ ساتھ باغیوں نے ترکی کے خفیہ سروس کے ہیڈکوارٹر میں ہیلی کاپٹرکے ذریعے اپنے فوجیوں کو اتارا اور باغیوں نے اترتے ہی خفیہ سروس کے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی تو پولیس اہلکار بھی جوابی فائرنگ کرنے لگے باغیوں کی پہلی فائرنگ میں کافی تعداد میں خفیہ سروس کے پولیس مارے ہوگئے مگر پھر بھی پولیس فارسز نے باغیوں کو گرفتار کرنے تک لڑائی جاری رکھی جس پر باغیوں نے پولیس اسپیشل فورسز کے ہیڈکوارٹر پر ایف ۱۶ سے بمباری کی جس کی وجہ سے پولیس کے کم وبیش سینتالیس اہلکار جن میں خواتین بھی شامل ایک ہی دم میں ماردیئےگئے فوج کی کچھ چھاؤنیوں میں باغی آفسروں نے بغاوت کے حکم سے انکار کی وجہ سے دوسرے سپاہیوں کو سبق سکھانے کی نیت سے انکار کرنے والے اپنے ہی سپاہیوں کے سروں کو گولیوں سے اڑادیا تو دوسری جانب ترکی کے غیور عوام  جنھوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اِس بغاوت کو ناکام کرنے میں اہم کردار ادا کیا جب صدر طیب اردغان نے ٹی وی پر ترکی کے عوام کو سڑکوں پر آنے کی دعوت دی تو شاید ترک اعوام کو انیس سو اسی کا خوفناک منظر یاد تھا جس میں مارشل لاء کے بعد فوجی حکومت نے سیکڑوں بے گناہوں کو پھانسیوں پر لٹکایا تھا ایک لڑکا جو سترہ سال کا تھا، قانون کی رو سے اُس کو پھانسی نہیں دی جاسکتی تھی تو اُن لوگوں نے اُس کی عمر ایک سال بڑھا کر اُسے تختہ دار پر چڑھادیاگیاتھا باغی فوجیوں نے لوگوں کے اوپر فائرنگ شروع کردی مگر اِس خبر کے ملنے کے باوجود کسی نے بھی واپسی کو نہیں سوچا پھر خبریں آنے لگیں کہ باغی فوجیوں نے ٹینکوں کو لوگوں پر چڑھانا شروع کردیا، بہت سے لوگوں کو کچل دیا گیا اور فوجی ہیلی کاپٹروں سے لوگوں پر فائرنگ کررہے ہیں اس سب کے باوجود کوئی مرد نہ کوئی عورت پیچھے ہٹی اور سب لوگ آگے بڑھتے چلتے گئے دوسری طرف تمام مساجد سے صلوٰۃ الشریفہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں تاکہ لوگوں کو سڑکوں پر نکالا جائے اِس طرح سے مساجد سے یہ پیغام مل رہا تھا کہ آپ مرنے پر تیار ہوکر سڑکوں پر نکلیں ترکی عوام ، باغی فوجیوں کو روکنے کی خاطر گولیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوگئے، ٹینکوں کو روکنے کی خاطر لوگ ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے لوگوں نے باغی فوجیوں کو ناکام بنانے کی خاطر ٹرکوں، بسوں اور گاڑیوں کو لے کر چھاؤنیوں کے دروازے بند کئے ٹرک ڈرائیوروں نے فوجی لڑاکا طیاروں کو روکنے کے لیے فوجی ہوائی اڈوں میں اپنے ٹرکوں کو گھساکر فلائٹ ٹریکوں کو لاک کیا، لوگوں نے دھواں پیداکرکے لڑاکا طیاروں کو ٹیک آف کرنے سے روکنے کے لیے فوجی ہوائی اڈوں کے آس پاس موجود اپنے کھیتوں کو آگ لگا دی اور ترک عوام نے نہ صرف اپنی منتخب حکومت کو بچانے کے لیے بلکہ اپنے ملک و قوم و عزت بچانے کے لیے قتل ہوئے، بہت سے بچے یتیم ہوئے، خواتین بیوہ ہوئیں اور بالآخر ترک خون نے جمہوریت کو بچالیا اگر اُس وقت ترکی میں کوئی جمہوریت پسند اپنی جان و مال کی فکر کرتا توآج ترکی میں باغیوں کی حکمرانی ہوتی اور وہ لوگ بغاوت کے خلاف لڑنے والوں کو پھانسی دینے کے لیے قانونی تیاری کررہے ہوتے جس طرح انیس سو ساٹھ کے مارشل لاء کے بعد ترکی کے صدر عدنان مندیرس اور اُن کے ساتھیوں کے ساتھ کیا گیا تھا یقینن ترکی کچھ گدوں کی نظر میں کھٹکتا ہے تبھی تو یہ ناکام کوشش کی گئ پس پاکستانیوں کو اس سے سبق سیکھنا چاہیئے ہمارے اندر نفرت کرپشن سے لتھ پتھ و نااہل سیاستدانوں، بیوروکریٹس وغیرہ کے لیئے ہونی چاہئے نہ کہ اس جمہوری نظام سے دوسرا ووٹ دیتے وقت چائے کی پیالی پر بکنے کے بجائے اپنی و قوم کی عزت کا مان رکھتے ہوئے صحیح لوگوں کو منتخب کرنے کی بھی ضرورت ہے اور بجائے کسی امر کی راہ تکنے کے جمہوریت میں چھپی کالی بھیڑوں کے ختم کرکے جمہوری نظام کو مظبوط کیاجائے نہ کہ ثبوتاژ ورنہ پھر وہی ہوگا جو امرحکمران ہوگا اور پاکستان تباہ برباد ہوگا۔

غيرقانونی تجاوذات اور بے روذگاری

غیر قانونی تجاوزات اور بے روزگاری

میں  شہر (تحصیل پروآ ) سے باہر کسی کام کے سلسلے میں گیا ہوا تھا صبح آٹھ بجے ایک دوست کی کال آئی اور پوچھا که آج ناجائز تجاوزات کے خلاف اڈہ پر گرینڈ آپریشن کیاجارہا کیونکہ اسسٹنٹ کمشنر کا حکم هے اس بارے میں کیا کچھ معلوم ہے آپ کو؟ جواب دیا معلوم تو نهیں لیکن پهلے بھی هوتے رهتے هیں ایک دو چھپر هٹائیں گے اور کچھ دوکانداروں کو وارننگ دے کر واپس لوٹ جائیں گے.پھر قریب 12 بجے دوباره کال آئی کال اٹھانے کے بعد جو الفاظ مجھے سننے کو ملے وه لکھ نهیں سکتا ایک شخص کی دوکان کے آگے کا پورا چھپر,تھڑی اور پھٹه وغیره سب کچھ اٹھاکر پھینک دیا گیا بہرحال میں نے سن کر کال منقطع کر دی.اگلی صبح جب شهر پہنچا تو شهر کا نقشه ہی بدل چکا تھا سبزی لینے بازار گیا لیکن کہیں بھی مجھے سبزی کا پھٹه نظر نهیں آ رها تھا.تمام پھٹے,چھاپڑیاں اور چھپر وغیره گر چکے تھے.خیر مجھے تو پکانے کیلئے کچھ مل گیا لیکن جن کے گھروں کا چولها انهی پھٹوں ,چھپروں اور تھڑوں سے جلتا تھا انکا کیا هوگا؟ ہزاروں گھروں کی روزی روٹی کا زریعه یهی پھٹے اور تھڑے تھے.پھر پوچھنے پر پته چلا که گزشته روز ٹی ایم اے عمله آیا اور ایکسویٹر کی زریعے ان سب چھپروں اور پھٹوں کا صفایا کرکے چلتا بنا.جبکه بیچارے غریب سبزی فروش,چھولے فروش,چائے کے هوٹل,چھاپڑی والے اور پھٹوں پر سارا دن بیٹھ کر دو وقت کی روٹی کمانے والے افسرده چهرے اور دل میں اک عجیب سی نفرت و غصه لیے اپنی روزی کے زریعے کو خاک میں ملتا هوا دیکھتے رہے.عجب قانون هے,ایکسویٹر لگایا چھپر گرائے پھٹے اٹھائے اور چلے گئے.اگر آپریشن کرنا ہی چاهتے تھے تو پهلے ایک حد مقرر کرتے که روڈ کے اتنے فٹ تک تجاوزات نهیں هونی چاہیئے آیا تجاوزات دیکھ کر وارننگ دی جاتی که اسکو اگلے چوبیس گھنٹے میں ہٹادیجئے,لیکن نهیں کوئی پوچھنے والا نهیں نقصان ہوا تو غریب کا.کیونکه پھٹے اور چھپر کسی امیر یا بڑے کاروباری کے نهیں اور نه ہی کسی سیاسی کے, اگرچہ یہ کسی سیاسی یا بڑے کاروباری تاجر کے ہوتے تو یہ نوبت ہی نه آتی چلو جو ہونا پس ہوگیا اب ان سبزی فروشوں,پھٹے اور چھاپڑی والوں کے بارے میں کس کو سوچنا چاهئے,وه کهاں پر اپنا روزہ گار بنائیں.جهاں سے میں سوچتا هوں مین روڈ کے ساتھ ساتھ سرکاری زمین پڑی هے.اگر محکمه یا گورنمنٹ اجازت دے تو اس زمین کی صفائی کرکے لیول کرکے قانونی طریقے سے رینٹ پر عوام کو دی جائے جوکه کافی عرصه سے سنسان پڑی هے,جس پر درخت جھاڑیاں اگ چکی هیں اس سے حکومت کو نقصان نهیں هوگا بلکه فائده هوگا هر ماه کا رینٹ مقرر کر دیا جائے ہر پھٹے,چھاپڑی والے سے ماہ وار کرایہ حکومت کے کھاتے میں جائے گا اور ان غریبوں کا بھی چولها چلتا رهے گا لیکن اس کام میں سیاسی حضرات کا کوئی کردار نهیں هونا چاهئے کیونکه سیاسی پھر وهی کام کریں گے یعنی لوٹ اپنی اجاره داری اور مک مکا، غریب کو براہ راست حکومت کی طرف سے جگه ملنی چاهیے اور تمام معاملات حکومت ، عوام مابین ہوں کسی سیاسی کی معارفت سے کسی کو جگه نهیں ملنی چاهئے تاکه وه غریب بے چاره ساری زندگی کسی احسان کے تلے نه دبا رهے چلتے چلتے عرض کرتا چلوں کہ میں غیرقانونی تجاوزات کا حامی نہیں ہوں بلکہ میرے اندر درد ان لوگوں کا جو بےروزگار ہوگئے اور ان چیزوں سے محرومی
پھیلتی ہے۔