غیر قانونی تجاوزات اور بے روزگاری
میں شہر (تحصیل پروآ ) سے باہر کسی کام کے سلسلے میں گیا ہوا تھا صبح آٹھ بجے ایک دوست کی کال آئی اور پوچھا که آج ناجائز تجاوزات کے خلاف اڈہ پر گرینڈ آپریشن کیاجارہا کیونکہ اسسٹنٹ کمشنر کا حکم هے اس بارے میں کیا کچھ معلوم ہے آپ کو؟ جواب دیا معلوم تو نهیں لیکن پهلے بھی هوتے رهتے هیں ایک دو چھپر هٹائیں گے اور کچھ دوکانداروں کو وارننگ دے کر واپس لوٹ جائیں گے.پھر قریب 12 بجے دوباره کال آئی کال اٹھانے کے بعد جو الفاظ مجھے سننے کو ملے وه لکھ نهیں سکتا ایک شخص کی دوکان کے آگے کا پورا چھپر,تھڑی اور پھٹه وغیره سب کچھ اٹھاکر پھینک دیا گیا بہرحال میں نے سن کر کال منقطع کر دی.اگلی صبح جب شهر پہنچا تو شهر کا نقشه ہی بدل چکا تھا سبزی لینے بازار گیا لیکن کہیں بھی مجھے سبزی کا پھٹه نظر نهیں آ رها تھا.تمام پھٹے,چھاپڑیاں اور چھپر وغیره گر چکے تھے.خیر مجھے تو پکانے کیلئے کچھ مل گیا لیکن جن کے گھروں کا چولها انهی پھٹوں ,چھپروں اور تھڑوں سے جلتا تھا انکا کیا هوگا؟ ہزاروں گھروں کی روزی روٹی کا زریعه یهی پھٹے اور تھڑے تھے.پھر پوچھنے پر پته چلا که گزشته روز ٹی ایم اے عمله آیا اور ایکسویٹر کی زریعے ان سب چھپروں اور پھٹوں کا صفایا کرکے چلتا بنا.جبکه بیچارے غریب سبزی فروش,چھولے فروش,چائے کے هوٹل,چھاپڑی والے اور پھٹوں پر سارا دن بیٹھ کر دو وقت کی روٹی کمانے والے افسرده چهرے اور دل میں اک عجیب سی نفرت و غصه لیے اپنی روزی کے زریعے کو خاک میں ملتا هوا دیکھتے رہے.عجب قانون هے,ایکسویٹر لگایا چھپر گرائے پھٹے اٹھائے اور چلے گئے.اگر آپریشن کرنا ہی چاهتے تھے تو پهلے ایک حد مقرر کرتے که روڈ کے اتنے فٹ تک تجاوزات نهیں هونی چاہیئے آیا تجاوزات دیکھ کر وارننگ دی جاتی که اسکو اگلے چوبیس گھنٹے میں ہٹادیجئے,لیکن نهیں کوئی پوچھنے والا نهیں نقصان ہوا تو غریب کا.کیونکه پھٹے اور چھپر کسی امیر یا بڑے کاروباری کے نهیں اور نه ہی کسی سیاسی کے, اگرچہ یہ کسی سیاسی یا بڑے کاروباری تاجر کے ہوتے تو یہ نوبت ہی نه آتی چلو جو ہونا پس ہوگیا اب ان سبزی فروشوں,پھٹے اور چھاپڑی والوں کے بارے میں کس کو سوچنا چاهئے,وه کهاں پر اپنا روزہ گار بنائیں.جهاں سے میں سوچتا هوں مین روڈ کے ساتھ ساتھ سرکاری زمین پڑی هے.اگر محکمه یا گورنمنٹ اجازت دے تو اس زمین کی صفائی کرکے لیول کرکے قانونی طریقے سے رینٹ پر عوام کو دی جائے جوکه کافی عرصه سے سنسان پڑی هے,جس پر درخت جھاڑیاں اگ چکی هیں اس سے حکومت کو نقصان نهیں هوگا بلکه فائده هوگا هر ماه کا رینٹ مقرر کر دیا جائے ہر پھٹے,چھاپڑی والے سے ماہ وار کرایہ حکومت کے کھاتے میں جائے گا اور ان غریبوں کا بھی چولها چلتا رهے گا لیکن اس کام میں سیاسی حضرات کا کوئی کردار نهیں هونا چاهئے کیونکه سیاسی پھر وهی کام کریں گے یعنی لوٹ اپنی اجاره داری اور مک مکا، غریب کو براہ راست حکومت کی طرف سے جگه ملنی چاهیے اور تمام معاملات حکومت ، عوام مابین ہوں کسی سیاسی کی معارفت سے کسی کو جگه نهیں ملنی چاهئے تاکه وه غریب بے چاره ساری زندگی کسی احسان کے تلے نه دبا رهے چلتے چلتے عرض کرتا چلوں کہ میں غیرقانونی تجاوزات کا حامی نہیں ہوں بلکہ میرے اندر درد ان لوگوں کا جو بےروزگار ہوگئے اور ان چیزوں سے محرومی
پھیلتی ہے۔
No comments:
Post a Comment