Wednesday, 31 October 2018
کیا آپ لوگ جانتے ہیں یہ عیسائی گستاخ خاتون کون تھی؟؟
جی اس کا نام ’’ آسیہ مسیح ‘‘ ہے ۔ اس خاتون کو بچانے کے چکر میں ایک گورنر پنجاب سلمان تاثیر موت کے منہ میں چلا گیا …
اسی ’’آسیہ مسیح ‘‘ملعونہ کو بچانے کے چکر میں ایک وفاقی وزیر موت کے منہ میں چلا گیا …
اسی ’’ آسیہ مسیح‘‘ ملعونہ کے خلاف ممتاز قادریؒ نے پھانسی کا پھندا قبول کر لیا اور لعین سلمان تاثیر اسکے ہاتھوں مارا گیا.
تین لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن توھین رسالتﷺ کے قانون 295-c کے تحت ایک ثابت شدہ گستاخ لعینہ کو تا حال پھانسی نہ دی جا سکی.
بین الاقوامی این جی اوز ، بڑے بڑے پادری فرانس کے پاپ دوم رومن کیتھولک ساری کمیونٹی ایک فالسے کی کاشت کاری پر مزدوری کرنے والی لعین گستاخ خاتون کو بچانے کیلئے شروع سے لیکر اب تک سرگرم ہیں لیکن حکومتی مشینری بالکل مفلوج ہو گئی یے اب چیف جسٹس ثاقب نثار ہی کی قیادت میں 3 رکنی بینچ آسیہ مسیح ثابت شدہ گستاخ ملعونہ کی اپیل کی سماعت پر اسکو رہا کر چکے…
اب رہائی پہ عیسائی مشنریاں پولیٹیکل اسائلم دلوا کر اس کو یورپ لے جائیں گی … اور اس خاتون کو ہیرو بنا کر الحاد پھیلانے کا کام لیا جائے گا …
یہ اس مظلوم قانون کی داستان کا صرف ایک باب ہے کہ ایک ملزمہ ملعونہ نے خود تسلیم کیا کہ اس نے توھین کی اور ظاہر وہ عدلیہ کےریکارڈ پہ ھے اور پھر بھی رہا ۔۔۔
Sunday, 28 October 2018
سوشل میڈیا کے سائڈ افیکٹس
Tuesday, 16 October 2018
تعلیمی ایمرجنسی پروا سرکل میں پہنچنے میں ناکام
وا سرکل میں تا حال تبدیلی کے اثرات نہیں پہنچ پا رہے۔خیبر پختون خواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل کی پسماندہ ترین تحصیل پروآ میں محکمہ تعلیم کی غفلت کے باعث حصول تعلیم ایک مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔متعلقہ تحصیل کے مکین اج بھی پتھر کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا تو نام و نشان تک موجود نہیں صاحب استطاعت پانی پیسوں کے عوض خرید کر جبکہ غریب عوام جوہڑوں اور نہروں کا پانی پی کر زندگی بسر کررہی ہے جوکہ اس علاقہ کا اولین مسئلہ ہے دوسرے نمبر پر اس علاقہ میں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔یوں تو تبدیلی کی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پالیسی کے مطابق محکمہ ایجوکیشن میں کئی گناہ بہتری آئی ہے لیکن ان پسماندہ علاقوں میں تبدیلی کے اثرات نہیں پہنچ پا رہے بات کرتے ہیں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروآ کے گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 2 کی جوکہ انڈس ہائی وے سے لنک گلی میں شہر کے حب میں واقع ہے جس میں تقریبا 260 کے قریب بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور سکول کا اسٹاف سرکل کا بہترین اسٹاف ہونے کا بھی اعزاز رکھتا ہے۔رواں سال کے آغاز میں سکول کی عمارت میں ایک کمرے کا اضافہ کیا گیا جبکہ پہلے سے موجود دو کمروں کو نیلام کردیا گیا کہ نیلامی کے فورا بعد نئے کمروں کی تعمیر کی جائے گی۔اب جبکہ سال ختم ہونے کو آیا لیکن سکول میں نئے کمروں کے کام کا آغاز نہ ہوسکا جسکے باعث بچے اساتذہ اور والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔چونکہ سکول میں اب صرف ایک عدد کمرہ موجود ہے جوکہ یکم سے لے کر پانچ جماعتوں کا کلاس روم،سکول آفس،و دیگر سرگرمیوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔جبکہ بیک وقت اس کمرے میں صرف دو جماعتوں کے بچے ہی بمشکل بیٹھ سکتے ہیں اور دوسرے جماعتوں کے بچے باہر کھلے اسمان تے زمین پر بیٹھ کر تعلیم جاری رکھتے ہیں۔سردی گرمی اور بارش کی سختیاں جھیلتے یہ معصوم بچے سارا سارا دن کھلے اسمان تلے بیٹھے رہتے ہیں جبکہ انہی مسائل کے باعث بعض بچے سکول آنے میں کتراتے ہیں۔سکول کے والدین اور اساتزہ نے کئی بار محکمہ ایجوکیشن سے اس سلسلے میں رابطہ بھی کیا لیکن تا حال کوئی سنوائی نہ ہوئی جوکہ تبدیلی کی حکومت اور تبدیلی کے نعرے لگانے والون کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
Friday, 14 September 2018
بڑے آدمی کا دکھ
تیکھے بدن کا بڑا آدمی ,
" سید جون اصغر المعروف جون ایلیاء "
جن کو اہل نظر جون اولیاء بھی کہا کرتے تھے ,
عجیب آدمی گذرا ہے صاحب ,
پہلے تو سگریٹ کی دھند میں بھٹکتا رہا ,
اور پھر پانیوں میں ڈوب گیا ,
14 دسمبر 1931 کو امروہہ میں جب اس کا ظہور ہوا تو زندگی بھر مرحوم رہا ,
8 نومبر 2002 کو رزق خاک ہوا ,
تو اہل ذوق کے دلوں میں زندہ ہو گیا ,
" جون " لفظوں کو حکم دیتا اور لفظ اس کی اطاعت میں قطار اندر قطار کیفیات کی انگلی تھامے ,
درد سمیٹے ,
یوں یکجاء ہوتے کہ شاہکار جنم لیتے ,
اس ادھڑے ہوئے آدمی نے لفظوں کو کیفیات کیساتھ یوں بُنا کہ دنیا آج بھی اس کے سحر میں مبتلا ہے ,
" جون " کے مخصوص انداز کی شاعری میں اداسی چیختی ,
درد کراہتا ,
اور محرومیاں بین کرتی تھیں ,
اور یہ اداسی اس کے قاری اور سامعین کے رگ و پہ میں اتر جاتی ,
اسی لیئے جیسے دیوانے قاری جون کو ملے کسی اور شاعر کے نصیب میں ایسے چاہنے والے نہیں ,
" جون " نے اپنا بہت سا کلام اپنے ہی اس خیال سے کہ
" وجود خیال کا زوال ہوتا ہے "
اپنے سینے میں لیئے منوں مٹی تلے سو گئے ,
ضروری نہیں لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑا آدمی دنیا کو فتح کیئے ہوتا ہے ,
مگر گھر سے ہارا ہوا ہوتا ہے ,
"مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہی
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا???
جون کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ,
ان کی ازدوجی زندگی ناکام رہی ,
اک خاتون جو عمر بھر اس کا خواب رہی مگر اس خواب کی تعبیر " جون " کی محرومی رہی ,
" جون " کا المیہ تھا کہ خواتین اس کی عزت کرتی تھیں ,
محبت نہیں کرتی تھیں ,
شرم دہشت جھجھک پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آپ,وہ,جی,مگر یہ سب کیا ہے
تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں?
ان کی ایک خواہش تھی کہ کوئی لڑکی ان کی محبت میں خود کشی کر لے ,
"جون " اپنی ذات میں ایک بزم تھا ,
مگر ہزاروں چاہنے والوں کے ہجوم میں وہ تنہائی سے مر گیا ,
"انکی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجئے,,,عمر گزار دی گئی'
تنہائی قطعاً یہ نہیں کہ آدمی اکیلا ہو بلکہ تنہائی تو یہ ہے آدمی مجمع میں ہو اور تنہا ہو ,
ایسےآدمی سے لوگ امپریس تو ہوتے ہیں مگر اس کے دوست نہیں ہوتے ,
وہ اکیلا نہ تھا مگر تنہا تھا اور یہ ہر بڑے آدمی کا دکھ ہے صاحب یہ ہر بڑے آدمی کا دکھ ہے ,اور ایسے لوگ اپنی زہانت یا باغیانہ مزاج کے باعث اپنے خاندان حلقہ احباب اور معاشرے میں بہت کم ہی ایڈجسٹ ہو پاتے ہیں.
دنیا میں بہت سے ایسے لوگ گذرے جن کے گرد ان کے مداحوں کا ہجوم رہتا تھا ,
مگر وہ تنہائیوں میں مرے ,
" جون " لوگوں کو حیران کر دینا چاہتا تھا اور کامیاب ہوا ,
وہ شاعروں کے ہجوم میں ہوتا تو بس وہ ہی دکھتا باقی تو سب تمام شد ,
آواز تو آدمی کی ہے مگر یوں معلوم پڑتا ہے جیسے کوئی دکھ کراہ رہا ہو ,
لگتا ہے "جون ایلیاء " آسمانوں میں محو سخن ہے ,
غزل سناتا جاتا ہو گا اور سر پیٹتا جاتا ہوگا ,
خیر چھوڑیئے صاحب رات کافی بیت چلی ہے میں شاید کوئی خواب دیکھ رہا ہوں گا یا پھر کوئی وہم ہو گا ,
"جون ایلیاء تم مرے نہیں تمھاری جان چھوٹی.
میں بھی بیت عجیب ہوں اتنا عجیب کہ بس
خود کو تباہ کر دیا اور ملال بھی نہیں کیا
Saturday, 2 June 2018
انسان،زمین اور سائنس
انسان زمینی مخلوق نہیں ھے:
امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ:
ارتقاء (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا:
ارتقائی سائنسدان لا جواب:
انسان زمین کا ایلین ہے ۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور(Ellis Silver)نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth) میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔
ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ(Ecologist)ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ زھن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔
اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رھا ھے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ھی نرم و نازک ماحول میں رھتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہین کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی ۔ ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔
تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی ۔۔
اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا ۔جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا ۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔
ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے ۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔
ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔
نمبر ایک ۔ زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔
نمبر دو ؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ھر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔
نمبر تین ؛ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔
نمبر چار ؛ ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔ کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔
نمبر پانچ زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا، جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔
نمبر چھ ؛انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔
نمبر سات: زمین کے اصل رہائشی (جانوروں) کو اپنی غذا حاصل کرنا اور اسے کھانا مشکل نہیں، وہ ہر غذا ڈائریکٹ کھاتے ہیں، جبکہ انسان کو اپنی غذا کے چند لقمے حاصل کرنے کیلیئے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں، پہلے چیزوں کو پکا کر نرم کرنا پڑتا ھے پھر اس کے معدہ اور جسم کے مطابق وہ غذا استعمال کے قابل ھوتی ھے، اس سے بھی ظاہر ھوتا ھے کہ انسان زمین کا رہنے والا نہیں ھے ۔ جب یہ اپنے اصل سیارے پر تھا تو وہاں اسے کھانا پکانے کا جھنجٹ نہیں اٹھانا پڑتا تھا بلکہ ہر چیز کو ڈائریکٹ غذا کیلیئے استعمال کرتا تھا۔
مزید یہ اکیلا دو پاؤں پر چلنے والا ھے جو اس کے یہاں پر ایلین ھونے کی نشانی ھے۔
نمبر آٹھ: انسان کو زمین پر رہنے کیلیے بہت نرم و گداز بستر کی ضرورت ھوتی ھے جبکہ زمین کے اصل باسیوں یعنی جانوروں کو اس طرح نرم بستر کی ضرورت نہیں ھوتی۔ یہ اس چیز کی علامت ھے کہ انسان کے اصل سیارے پر سونے اور آرام کرنے کی جگہ انتہائی نرم و نازک تھی جو اس کے جسم کی نازکی کے مطابق تھی ۔
نمبر نو: انسان زمین کے سب باسیوں سے بالکل الگ ھے لہذا یہ یہاں پر کسی بھی جانور (بندر یا چمپینزی وغیرہ) کی ارتقائی شکل نہیں ھے بلکہ اسے کسی اور سیارے سے زمین پر کوئی اور مخلوق لا کر پھینک گئی ھے ۔
انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔ یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی ۔۔یہ ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیارے پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کا دورانیہ گزار کر واپس آ جائے ۔ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہاہے ، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے ، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں ، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔
ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔۔
میں اس کے سائنسی دلائل اور مفرو ضوں پر غور کر رہا تھا۔۔ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لئے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے ۔۔ سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے ۔ میں نے نسل انسانی پر لکھنا شروع کیا تھا۔ اب اس تحریر کے بعد میں اس سلسلے کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکوں گا۔۔
ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔۔ اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے ۔۔ یہ سیارہ ہمارا نہین ہے ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشمار بار بتا دیا تھا۔ اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے ۔ جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی ۔





