Wednesday, 31 October 2018

کیا آپ لوگ جانتے ہیں یہ عیسائی گستاخ خاتون کون تھی؟؟


 جی اس کا نام ’’ آسیہ مسیح ‘‘ ہے ۔ اس خاتون کو بچانے کے چکر میں ایک گورنر پنجاب سلمان تاثیر موت کے منہ میں چلا گیا …
اسی ’’آسیہ مسیح ‘‘ملعونہ کو بچانے کے چکر میں ایک وفاقی وزیر موت کے منہ میں چلا گیا …
اسی ’’ آسیہ مسیح‘‘ ملعونہ کے خلاف ممتاز قادریؒ نے پھانسی کا پھندا قبول کر لیا اور لعین سلمان تاثیر اسکے ہاتھوں مارا گیا.
تین لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن توھین رسالتﷺ کے قانون 295-c کے تحت ایک ثابت شدہ گستاخ لعینہ کو تا حال پھانسی نہ دی جا سکی.
بین الاقوامی این جی اوز ، بڑے بڑے پادری فرانس کے پاپ دوم رومن کیتھولک ساری کمیونٹی ایک فالسے کی کاشت کاری پر مزدوری کرنے والی لعین گستاخ خاتون کو بچانے کیلئے شروع سے لیکر اب تک سرگرم ہیں لیکن حکومتی مشینری بالکل مفلوج ہو گئی یے اب  چیف جسٹس ثاقب نثار ہی کی قیادت میں 3 رکنی بینچ آسیہ مسیح ثابت شدہ گستاخ ملعونہ کی اپیل کی سماعت پر اسکو رہا کر چکے…
اب رہائی پہ عیسائی مشنریاں پولیٹیکل اسائلم دلوا کر اس کو یورپ لے جائیں گی … اور اس خاتون کو ہیرو بنا کر الحاد پھیلانے کا کام لیا جائے گا …
یہ اس مظلوم قانون کی داستان کا صرف ایک باب ہے کہ ایک ملزمہ ملعونہ نے خود تسلیم کیا کہ اس نے توھین کی اور ظاہر وہ عدلیہ کےریکارڈ پہ ھے اور پھر بھی رہا ۔۔۔


Sunday, 28 October 2018

سوشل میڈیا کے سائڈ افیکٹس

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محقق اور ماہر نفسیات لیری روزن کی تحقیقات کے مطابق فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کے زیادہ استعمال سے انسان میں خود پرستی ،نفسیاتی مشکلات ،سماج دشمن روئیے اور پر تشدد جذبات میں اضافہ ہورہا ہے ۔
لیری روزن کے مطابق ان کے استعمال کرنے والے بچے اور بڑے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں ۔فیس بک کے اعداد و شمار کے مطابق ہر روز تقریبا دولاکھ افراد اس سائیٹ کے ممبر بنتے ہیں ۔حال ہی میں پاکستان میں فیس بک صارفین کی تعداد ایک کروڑ ۰۲ لاکھ سے بڑھ گئی ہے جو پاکستان کی کل آبادی کے سات فیصد کے قریب بنتا ہے ۔اور ایک اندازے کے مطابق اس میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور نوجوانوں کی ہے ۔
دور حاضر میں انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا ویب سائٹ کی افادیت سے انکار ممکن نہیں سوشل میڈیا کی وجہ سے آج فاصلے سمٹ کر کم ہو گئے ہیں ،ہزاروں میل دور سے انسان اپنے سارے مسائل گھر بیٹھ کر حل کر سکتا ہے ۔سوشل میڈیا کی بدولت آج دنیا گلوبل ولیج میں بدل چکی ہے فیس بک ،ٹوئیٹر ،موبائل ایس ایم ایس ،واٹس ایپ ،وائبر فوری طور پر ملنے والی عوامی رابطہ ویب سائیٹس ہیں ۔غور طلب بات یہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران سوشل میڈیا کے صارفین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھ رہا ہے مگر جس طرح ہر چیز کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں اور منفی بھی ،یہی کچھ حال سوشل میڈیا کا بھی ہے جہاں سوشل ویب سائٹس انفرادی اور گروہی سطح پر باہمی رابطوں کا ذریعہ اور اطلاعات اور خبروں کی ترسیل کا مﺅثر ترین وسیلہ بن کر سامنے آئی ہے ،وہیں ان کی وجہ سے معاشروں میں بہت سی اخلاقی اور سماجی خرابیوں نے بھی فروغ پایا ہے ۔
ایسے معاشروں میں پاکستانی معاشرہ بھی ہے جہاں ہر ٹیکنالوجی کے منفی اثرات ،مثبت اثرات سے کہیں زیادہ ہیں ۔سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک اس صورتحال کی اہم مثال ہے جو کچھ وقت پہلے تک اطلاعات کے پھیلاﺅ ،تفریح اور علم کے حصول کا مﺅثر ترین ذریعہ تھی مگر آج ہمارے معاشرے کے مختلف افراد اسے لوگوں کو بدنام کرنے ،بے بنیاد اور من گھڑت خبریں پھیلانے اور تصاویر ،خاکوں اور وڈیوز میں من مانی ردوبدل کرکے لوگوں کو بلیک میلنگ کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔ایک رپور ٹ کے مطابق جہان سوشل میڈیا ویب سائٹ نے دوسروں کے ساتھ مربوط ہونے اور باہمی رابطے بڑ ھا نے کا ایک اضافی طریقہ فراہم کیا ہے وہیں یہ ممکنہ طور یہ ممکنہ طور پر سائبر غنڈہ گردی ،سماجی رقابت اور تنہائی کا بھی ذریعہ بن رہا ہے ۔
سوشل میڈیا نے جہاں مردوں کو اپنا گرویدہ بنایا وہیں خواتین بھی اس سے پوری طرح مستفید ہو رہی ہیں ،ایک وقت تھا جب صرف مرد حضرات ان ویب سائٹس کا زیادہ استعمال کرتے نظر آتے تھے ،مگر آج یہ صورتحال ہے کہ خواتین بھی اس دوڑ میں پوری طرح شامل ہو چکی ہیں ۔ایک طرف وہ خواتین جو کاروباری شعبے میں اپنا مقام بنارہی ہیں اور اپنی محنت اور کوشش سے کاروبار کی دنیا میں اپنا مقام بنا رہی ہیں ،ان میں سے بیشتر خواتین اپنے ذاتی کاروبار سے وابستہ ہیں اور جنہوں نے چھوٹے پیمانے پر اپنے کام کا آغاز کیا اور اب اکثر خواتین آن لائن بزنس چلا رہی ہیں ۔مثال کے طور پر کچھ خواتین جو بیوٹی پالر چلاتی ہیں یا بوتیک چلا رہی ہیں ،اب وہ اپنے پالر اور بوتیک کی پبلسٹی کے لئے اپنے فیس بک پیجز بنا رہی ہیں جس سے ان کے گاہکوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور آن لائن خرید اور بیچ میں نمایاں اضافہ ہوا کیونکہ فیس بک کی بدولت رسائی آسان بن گئی ہے ۔یوں سوشل میڈیا کی بدولت بزنس کی پروموشن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔مگر کچھ فوائد کے ساتھ ساتھ انہیں ویب سائٹس نے کوخواتین کو ذہنی مریض بنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ،آج نہ صرف وہ خواتین جو گھریلو ہیں بلکہ ورکنگ وومین بھی اس کی وجہ سے بہت سے مسائل کا شکار ہو رہی ہیں ۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بیشتر خواتین کو اپنے شوہروں سے یہ شکایت ہے کہ ان کی شوہر وں کے پاس ان کے لئے کوئی ٹائم نہیں کیونکہ وہ اپنا سارا وقت میڈیا ویب سائٹس پہ گزار رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ خانگی مسائل جنم لے رہے ہیں مردوں کی سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اس حد تک دلچسپی پر ان کی بیویوں نے اعلانیہ اپنے غم اور غصے کا اظہار شروع کر دیا ہے ،ان میں سے بعض یہ کہہ رہی ہیں کہ ان کے خاوند اس طرح سوشل میڈیا پر دوسری عورتوں کے ساتھ دل لبھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اپنے شوہروں سے نالاں خواتین نے طلاقیں لینا شروع کردی ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ ٓج ۰۸ فیصد گھروں کے ٹوٹنے میں سب سے اہم کردار اس سوشل میڈیا کا ہے جس نے میاں بیوی کے درمیا ن دوریاں پیدا کردی ہیں اور جس کی وجہ سے خاندان کے خاندان تباہ ہو رہے ہیں اور خانگی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے بچے متاثر ہو رہے ہیں ۔زندگی میں ذہنی تناﺅ بڑھ رہا ہے ۔
کچھ خواتین کے خیال میں ان کے شوہر سوشل میڈیا نیٹ ورک کے نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں اور وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ان کا کوئی خاندان بھی ہے وہ اپنا سرا سارا وقت ،پوری پوری رات موبائل نیٹ ورک اور چیٹ روم اور مختلف گرپس میں گفتگو کرتے ہو ئے گزارتے ہیں اور بیوی بچوں کو نظر انداز کرتے ہیں کیونکہ انہیں نت نئی لڑکیوں کے ساتھ چیٹ کرنے اور دلگی کرنے میں زیادہ مزہ آنے لگا ہے اور وہ اپنی بیویوں سے بے زار رہتے ہیں چنانچہ ایسی خواتین مسلسل تکلیف دہ عمل سے گزر کر ڈپریشن کا شکار اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہی ہیں اور بے خوابی اور عدم تحفظ کا شکار ہو کر چڑ چڑ ی ہوتی جارہی ہیں ۔چک و شبے کا شکار ہو نے کی وجہ سے لڑائی جھگڑا گھر کا سکون بھی بر باد کر دیتا ہے اور بہت سی خواتین تو اس صورتحال میں ہر وقت اپنے شوہروں کی جاسوسی میں لگی رہتی ہیں جس کی وجہ سے گھر اور بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں اور یہ چیز معاشرے کے لئے بہت نقصان کا باعث ہے ۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے جہاں فاصلوں کو کم کیا ہے وہیں اس کے وسیع منفی اثرات سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے والے بچوں کی جذباتی اور سماجی نشونما مین تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ وہ زیادہ وقت مجازی دنیا میں گزارتے ہیں ۔اور جس کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے ۔ہر روز اپنا زیادہ وقت سوشل ویب سائٹس پر گزارنے والے بچوںمیںجذباتی مسائل ،ہائپر ایکٹیویٹی اور خراب رویہ پایا جاتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کے دور میں بچوں نے اپنی تعلیم اور کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا میں دلچسپی لے لی ہے ۔ایک دور تھا جب بچے اسکول جا تے اور پھر گھر آکر اپنی پڑھائی پر توجہ دیتے تھے اور کچھ وقت کھیل کود کو دیا کرتے تھے جس سے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہتے تھے ۔
مگر جب سے انٹر نیٹ ،موبائل کے ذریعے سوشل ویب سائٹس کا عفریت ہماری جڑوں میں آبسا ہے تو اس سے سب سے زیادہ متاثر نوجوان نسل اور کم عمر بچے ہو رہے ہیں ۔آج بچے اپنا سارا سارا وقت مو بائل اور کمپیوٹر کے استعمال میں صرف کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جسمانی صحت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔نوجوان فیک آئی ڈیز بنا کر کالج اور اسکول کی لڑکیوں کی تصاویر لگا کر معصوم لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں اور اپنے تھوڑی سی انجوائمنٹ کے لئے اپنا اور دوسروں کا وقت بھی ضائع کر رہے ہیں اور دوسروں کے جذبات اور احساسات سے کھیل کر خوشی محسوس کر تے ہیں ،تو دوسری طرف زیادہ تر لڑکیاں فلمی اداکاراہوں اور ماڈلز کی خوبصورت اور ہیجان انگیز تصاویر لگا کر لڑکوں کو متاثر کر نے کوشش میں مصروف رہتی ہیں اور پھر کسی کے ساتھ محبت کا تعلق بنا کر بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں کیونکہ ۰۹ فیصد لڑکے صرف دل لگی کر رہے ہو تے ہیں ۔اور دوستی کے نتیجے میں ملاقات کے بہانے بہت سی لڑکیاں اغواہ برائے تاوان اور جنسی زیادتی کابھی شکار ہورہی ہیں ۔آج کیونکہ سوشل میڈیا کی بدولت جنسی ویب سائٹس تک رسائی آسان ہو چکی ہے لحاظہ نو عمر بچے خاص طور پر لڑکے ان ویب سائٹس کو دیکھ کر اخلاقی اور جنسی بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں وہ اپنا سارا سارا وقت ان ویب پیجز پر گزارتے ہیں جس کی وجہ سے اپنی ذہنی اور جسمانی صحت خراب کر بیٹھتے ہیں ۔
یہی نہیں بلکہ بعض نوجوان سیکسی پروفائل پکس اور غیر اخلاقی اور بے پردہ تصاویر لگا کر بے حیائی پیدا کر رہے ہیں ۔جس سے مسلمان اور پاپردہ خواتین کی عزت نفس بھی مجروح ہورہی ہے ۔اس کے علاوہ ان ویب سائٹس پر ہر قسم کی معلومات شئر کر نے کے بھی بہت خراب نتائج سامنے آرہے ہیں ۔لوگوں میں عداوت ،حسد اور جلن جیسے منفی اثرات پیدا ہو رہے ہیں،وقت کا ضایع بچوں کا مستقبل تاریک کر رہا ہے ۔بچوں کے سلسلے میں کوتائی کے زمدار وہ والدین ہیں جو اپنے بچوں کو موبائل اور کمپیوٹر کے زیادہ استعمال سے منع نہیں کر تے اور ان کا کو ئی ٹائم شیڈول نہیں بناتے نہ ان پر نظر رکھتے ہیں کہ بچے سارا وقت ان پر کیوں وقت ضایع کر تے ہیں اور کیا کیا دیکھتے ہیں ۔اور ان کی تعلیم اور رزلٹ کیو ں متا ثر ہو رہا ہے۔
غرض سوشل میڈیا ویب سائٹس کا استعمال لوگوں کا جہاں کچھ فائدے پہنچا رہا ہے وہیں بہت سی اخلاقی اور معاشرتی برائیوں میں بھی مبتلا کر رہا ہے لوگوں کی زندگی سے سکون ختم کر نے کا اہم سبب بن رہا ہے۔ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ہر شخص اس کا استعمال اعتدال میں کر نا سیکھے اور خود کو ان چیزوں کا عادی بنا نے کے بجا ئے صرف ضرورت کے تحت ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کریں ،تو ہر قسم کی پریشانی اور مسئلے سے بچا جاسکتا ہے۔

Tuesday, 16 October 2018

تعلیمی ایمرجنسی پروا سرکل میں پہنچنے میں ناکام

یوں تو نئے پاکستان تبدیلی کی حکومت اور تعلیمی ایمرجنسی کی گونج دور دور تک سنائی دیتی ہے لیکن پر
وا سرکل میں تا حال تبدیلی کے اثرات نہیں پہنچ پا رہے۔خیبر پختون خواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل کی پسماندہ ترین تحصیل پروآ میں محکمہ تعلیم کی غفلت کے باعث حصول تعلیم ایک مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔متعلقہ تحصیل کے مکین اج بھی پتھر کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا تو نام و نشان تک موجود نہیں صاحب استطاعت پانی پیسوں کے عوض خرید کر جبکہ غریب عوام جوہڑوں اور نہروں کا پانی پی کر زندگی بسر کررہی ہے جوکہ اس علاقہ کا اولین مسئلہ ہے دوسرے نمبر پر اس علاقہ میں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔یوں تو تبدیلی کی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پالیسی کے مطابق  محکمہ ایجوکیشن میں کئی گناہ بہتری آئی ہے لیکن ان پسماندہ علاقوں میں تبدیلی کے اثرات نہیں پہنچ پا رہے بات کرتے ہیں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروآ کے گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 2 کی جوکہ انڈس ہائی وے سے لنک گلی میں شہر کے حب میں واقع ہے جس میں تقریبا 260 کے قریب بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور سکول کا اسٹاف سرکل کا بہترین اسٹاف ہونے کا بھی اعزاز رکھتا ہے۔رواں سال کے آغاز میں سکول کی عمارت میں ایک کمرے کا اضافہ کیا گیا جبکہ پہلے سے موجود دو کمروں کو نیلام کردیا گیا کہ نیلامی کے فورا بعد نئے کمروں کی تعمیر کی جائے گی۔اب جبکہ سال ختم ہونے کو آیا لیکن سکول میں نئے کمروں کے کام کا آغاز نہ ہوسکا جسکے باعث بچے اساتذہ اور والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔چونکہ سکول میں اب صرف ایک عدد کمرہ موجود ہے جوکہ یکم سے لے کر پانچ جماعتوں کا کلاس روم،سکول آفس،و دیگر سرگرمیوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔جبکہ بیک وقت اس کمرے میں صرف دو جماعتوں کے بچے ہی بمشکل بیٹھ سکتے ہیں اور دوسرے جماعتوں کے بچے باہر کھلے اسمان تے زمین پر بیٹھ کر تعلیم جاری رکھتے ہیں۔سردی گرمی اور بارش کی سختیاں جھیلتے یہ معصوم بچے سارا سارا دن کھلے اسمان تلے بیٹھے رہتے ہیں جبکہ انہی مسائل کے باعث بعض بچے سکول آنے میں کتراتے ہیں۔سکول کے والدین اور اساتزہ نے کئی بار محکمہ ایجوکیشن سے اس سلسلے میں رابطہ بھی کیا لیکن تا حال کوئی سنوائی نہ ہوئی جوکہ تبدیلی کی حکومت اور تبدیلی کے نعرے لگانے والون کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

Friday, 14 September 2018

بڑے آدمی کا دکھ


میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر پڑھا جس میں شاعر کا نام جون ایلیاء لکھا تھا میں سمجھا کہ یہ شعر کسی  شاعرہ کا ہے بعدازاں شعور شاعری اور مزید مطالعہ پر اس موصوف کے کلام میں کافی دلچسبی ہونے لگی دراصل یہ شاعری دیگر شعراء کرام سے بالکل مختلف محسوس ہوئی کیونکہ تمام تر شاعری مکالمہ لگتی جیسے کوئی سامنے براجمان ہوکر اپنے درد کی رونمائی کرے یا پھر کسی کی وفا اخلاص اور ہمدردی اس کے منہ پر دے پارے.
چھوٹی بحر کا بڑا شاعر ,
تیکھے بدن کا بڑا آدمی ,
" سید جون اصغر المعروف جون ایلیاء "
جن کو اہل نظر جون اولیاء بھی کہا کرتے تھے ,
عجیب آدمی گذرا ہے صاحب ,
پہلے تو سگریٹ کی دھند میں بھٹکتا رہا ,
اور پھر پانیوں میں ڈوب گیا ,
14 دسمبر 1931 کو امروہہ میں جب اس کا ظہور ہوا تو زندگی بھر مرحوم رہا ,
8 نومبر 2002 کو رزق خاک ہوا ,
تو اہل ذوق کے دلوں میں زندہ ہو گیا ,
" جون " لفظوں کو حکم دیتا اور لفظ اس کی اطاعت میں قطار اندر قطار کیفیات کی انگلی تھامے ,
درد سمیٹے ,
یوں یکجاء ہوتے کہ شاہکار جنم لیتے ,
اس ادھڑے ہوئے آدمی نے لفظوں کو کیفیات کیساتھ یوں بُنا کہ دنیا آج بھی اس کے سحر میں مبتلا ہے ,
" جون " کے مخصوص انداز کی شاعری میں اداسی چیختی ,
درد کراہتا ,
اور محرومیاں بین کرتی تھیں ,
اور یہ اداسی اس کے قاری اور سامعین کے رگ و پہ میں اتر جاتی ,
اسی لیئے جیسے دیوانے قاری جون کو ملے کسی اور شاعر کے نصیب میں ایسے چاہنے والے نہیں ,
" جون  " نے اپنا بہت سا کلام اپنے ہی اس خیال سے کہ
" وجود خیال کا زوال ہوتا ہے "
اپنے سینے میں لیئے منوں مٹی تلے سو گئے ,
ضروری نہیں لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑا آدمی دنیا کو فتح کیئے ہوتا ہے ,
مگر گھر سے ہارا ہوا ہوتا ہے ,
"مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہی
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا???
جون کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ,
ان کی ازدوجی زندگی ناکام رہی ,
اک خاتون جو عمر بھر اس کا خواب رہی مگر اس خواب کی تعبیر " جون " کی محرومی رہی ,
" جون " کا المیہ تھا کہ خواتین اس کی عزت کرتی تھیں ,
محبت نہیں کرتی تھیں ,
شرم دہشت جھجھک پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آپ,وہ,جی,مگر   یہ سب کیا ہے
تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں?
" جون " کی خواہشیں بھی عجیب تھیں ,
ان کی ایک خواہش تھی کہ کوئی لڑکی ان کی محبت میں خود کشی کر لے ,
"جون " اپنی ذات میں ایک بزم تھا ,
مگر ہزاروں چاہنے والوں کے ہجوم میں وہ تنہائی سے مر گیا ,
"انکی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجئے,,,عمر گزار دی گئی'
ایسے آدمی کو ذہنی ہم آہنگی کے مطابق لوگ نہیں ملتے ,
تنہائی قطعاً یہ نہیں کہ آدمی اکیلا ہو بلکہ تنہائی تو یہ ہے آدمی مجمع میں ہو اور تنہا ہو ,
ایسےآدمی سے لوگ امپریس تو ہوتے ہیں مگر اس کے دوست نہیں ہوتے ,
وہ اکیلا نہ تھا مگر تنہا تھا اور یہ ہر بڑے آدمی کا دکھ ہے صاحب یہ ہر بڑے آدمی کا دکھ ہے ,اور ایسے لوگ اپنی زہانت یا باغیانہ مزاج کے باعث اپنے خاندان حلقہ احباب اور معاشرے میں بہت کم ہی ایڈجسٹ ہو پاتے ہیں.
دنیا میں بہت سے ایسے لوگ گذرے جن کے گرد ان کے مداحوں کا ہجوم رہتا تھا ,
مگر وہ تنہائیوں میں مرے ,
" جون " لوگوں کو حیران کر دینا چاہتا تھا اور کامیاب ہوا ,
وہ شاعروں کے ہجوم میں ہوتا تو بس وہ ہی دکھتا باقی تو سب تمام شد ,
اجازت چاہوں گا سماعت میں ایک جانے پہچانے لہجے کی صدا آ رہی ہے ,
آواز تو آدمی کی ہے مگر یوں معلوم پڑتا ہے جیسے کوئی دکھ کراہ رہا ہو ,
لگتا ہے "جون ایلیاء " آسمانوں میں محو سخن ہے ,
غزل سناتا جاتا ہو گا اور سر پیٹتا جاتا ہوگا ,
خیر چھوڑیئے صاحب رات کافی بیت چلی ہے میں شاید کوئی خواب دیکھ رہا ہوں گا یا پھر کوئی وہم ہو گا ,
"جون ایلیاء تم مرے نہیں تمھاری جان چھوٹی.
میں بھی بیت عجیب ہوں اتنا عجیب کہ بس
خود کو تباہ کر دیا اور ملال بھی نہیں کیا

Saturday, 2 June 2018

انسان،زمین اور سائنس

انسان زمینی مخلوق نہیں ھے:
امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ:
ارتقاء (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا:
ارتقائی سائنسدان لا جواب:

انسان زمین کا ایلین ہے ۔

ڈاکٹر ایلیس سِلور(Ellis Silver)نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth)  میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی  نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔

ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ(Ecologist)ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ زھن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔

اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رھا ھے وہ سیارہ  ،  وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے  وی وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ھی نرم و نازک ماحول میں رھتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے  اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہین کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر  تھی ۔  ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔

تب اس مخلوق انسان  سے کوئی غلطی ہوئی ۔۔

اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا ۔جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام  بھی تھا  ۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔  وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔

ڈاکٹر سلور  کا کہنا ہے کہ ممکن ہے  زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے ۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔

ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔

نمبر ایک ۔ زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت  زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔ 

نمبر دو ؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ھر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔

نمبر تین ؛ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود  جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔

نمبر چار ؛ ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔ کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی  رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔

نمبر پانچ زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا، جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔

نمبر چھ ؛انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔

نمبر سات: زمین کے اصل رہائشی (جانوروں) کو اپنی غذا حاصل کرنا اور اسے کھانا مشکل نہیں، وہ ہر غذا ڈائریکٹ کھاتے ہیں، جبکہ انسان کو اپنی غذا کے چند لقمے حاصل کرنے کیلیئے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں، پہلے چیزوں کو پکا کر نرم کرنا پڑتا ھے پھر اس کے معدہ اور جسم کے مطابق وہ غذا استعمال کے قابل ھوتی ھے، اس سے بھی ظاہر ھوتا ھے کہ انسان زمین کا رہنے والا نہیں ھے ۔ جب یہ اپنے اصل سیارے پر تھا تو وہاں اسے کھانا پکانے کا جھنجٹ نہیں اٹھانا پڑتا تھا بلکہ ہر چیز کو ڈائریکٹ غذا کیلیئے استعمال کرتا تھا۔
مزید یہ اکیلا دو پاؤں پر چلنے والا ھے جو اس کے یہاں پر ایلین ھونے کی نشانی ھے۔

نمبر آٹھ: انسان کو زمین پر رہنے کیلیے بہت نرم و گداز بستر کی ضرورت ھوتی ھے جبکہ زمین کے اصل باسیوں یعنی جانوروں کو اس طرح نرم بستر کی ضرورت نہیں ھوتی۔ یہ اس چیز کی علامت ھے کہ انسان کے اصل سیارے پر سونے اور آرام کرنے کی جگہ انتہائی نرم و نازک تھی جو اس کے جسم کی نازکی کے مطابق تھی ۔

نمبر نو: انسان زمین کے سب باسیوں سے بالکل الگ ھے لہذا یہ یہاں پر کسی بھی جانور (بندر یا چمپینزی وغیرہ) کی ارتقائی شکل نہیں ھے بلکہ اسے کسی اور سیارے سے زمین پر کوئی اور مخلوق لا کر پھینک گئی ھے ۔

انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔ یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی ۔۔یہ ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیارے پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کا دورانیہ گزار کر واپس آ جائے ۔ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہاہے ، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے  ، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں ، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔   

ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔۔

میں اس کے سائنسی دلائل اور مفرو ضوں پر غور کر رہا تھا۔۔ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لئے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے ۔۔ سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے ۔ میں نے نسل انسانی پر لکھنا شروع کیا تھا۔ اب اس تحریر کے بعد میں اس سلسلے کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکوں گا۔۔

ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔۔ اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے ۔۔ یہ سیارہ ہمارا نہین ہے ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشمار بار بتا دیا تھا۔ اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش  کی جگہ ہے ۔ جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی ۔

Saturday, 24 March 2018

میلہ جشن بہاراٮ ڈیرہ

جشن مناتے اہلیان ڈیرہ کی خوشیاں امن دشمن قوتوں کو ہضم نہ ہو سکیں، تحصیل پروآ کے علاقہ سکندر جنوبی میں جاری میلہ جشن بہاراں میں نامعلوم افراد کی جانب سے دستی بم پھینک دیا گیا،دو ایف سی اہلکاروں سمیت چوبیس افراد زخمی، حملے کے بعد میلے میں شدید بھگدڑ، زخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا دیا گیا، چار زخمیوں کی حالت تشویشناک،حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب، پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ کے مقام سے شواہد اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ علاقہ میں سرچ آپریشن شروع کر دیا، مشتبہ شخص کی گرفتاری کی متضاد اطلاعات، واقعہ سے ضلع میں جاری دیگر میلہ جات اور دیگر سرگرمیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ۔ تفصیلات کے مطابق، ضلع بھر میں ان دنوں جشن بہاراں کے سلسلے میں مختلف قسم کے میلہ جات جاری ہیں جن میں امن اور بہار کی خوشیوں کے لئے مختلف قسم کی ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ انہی میلہ جات میں سے ایک میلہ گزشتہ روزتحصیل پروآ کے علاقہ سکندر جنوبی میں جاری تھا کہ میلہ کے لئے بنائے گئے سٹیج پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینک دیا۔ خوشیوں کے میلے میں بارود کے زور دار دھماکے سے ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ حملہ کے نتیجے میں سٹیج اور گرد نواح میں موجود 24افراد زخمی ہو گئے جن میں دو ایف سی اہلکار بھی شامل تھے۔ سکندر جنوبی میلہ کے روح رواں اور مہمان خصوصی سردار قیضار خان میانخیل اس بم حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔حملے میں زخمی ہونے والے افراد میں خیام خان ولد ذوالفقار قوم میانخیل سکنہ درابن حال سٹی سکول ڈیرہ، سیف اللہ ولد ملک نظام سکنہ کیچ، سونا خان ولد شیرو خان سکنہ کلاچی، رانا سلیم ولد حاجی حکم اللہ سکنہ محلہ گوسائیاں ڈیرہ شہر، عبد الرحمان ولد صاحب جان سکنہ درابن کلاں، عظمت اللہ ولد سعداللہ محلہ خدمتگاراں ڈیرہ شہر، روشن ضمیر لغاری ولد غلام حسین سکنہ گلشن کالونی ڈیرہ شہر، محمد کامران ولد عنایت اللہ سکنہ جھوک ڈمرہ، عبدالسعید ولد عمر خان سکنہ محلہ لغاری ڈیرہ شہر، محمد اسلم ولد شاہجہان سکنہ پروآ، برکت اللہ ولد ہیبت خان سکنہ نائیویلہ، محمد اظہار ولد فلک شیر سکنہ پروآ، مبشر ولد صاحبداد سکنہ چاہ خان والا، ربنواز ولد حق نوازسکنہ بڈہ شاہ اور وقاص ولد نامعلوم سکنہ محلہ لغاری ڈیرہ ,سیف اللہ ولد ناظم سکنہ کیچ، شوکت منیر ولد عبدالعزیز سکنہ عیدگاہ ڈیرہ شہر، سونا خان ولد شیرو خان سکنہ چاہ حسین، اکرم ولد محمد رمضان سکنہ روڑہ، یامین ولد عبداللہ شاہ سکنہ اسلامیہ کالونی ڈیرہ شہر، مبشر ولد صاحبداد سکنہ چاہ خان والا، ربنواز ولد حق نواز سکنہ چودہوان، محمد نواز ولد مراد بخش سکنہ پروآ، محمد رمضان ولد صدر ایوب سکنہ چودہوان شامل ہیں جبکہ ایف سی اہلکار زکریا ولد گل نبی سکنہ چارسدہ اور منصور خان ولد گل مدار سکنہ چارسدہ بھی بم حملہ میں زخمی ہو گئے۔زخمی ہونے والے ان چوبیس افراد میں چار افراد جن میں وقاص، روشن ضمیر لغاری، یامین خان اور سمیع اللہ سدوزئی شامل ہیں ، کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ڈیرہ اسماعیل خان کے میلہ سپان سمیت تمام دیگر میلہ جات اور دیگر سرگرمیوں کو محدود کرنے کی سفارش کی گئی تھی جبکہ ضلع بھر میں سکیورٹی الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا جس کی بنیادی وجہ امن دشمن قوتوں کی جانب سے دہشت گردی کے اقدام کا خدشہ بتایا گیا تھا۔