Sunday, 20 July 2025

غیرت کی لاش پر رقص کرتی روایتیں

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈغاری، مارگٹ اور ماروڑا میں حال ہی میں جو المناک واقعہ پیش آیا، وہ صرف ایک نوجوان جوڑے کے بہیمانہ قتل کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے سماج کی روح پر پڑنے والے گھاؤ کی داستان ہے۔ ایک ایسا زخم، جو وقت کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے — اور ہم سب تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ احسان اللہ ولد سمالانی اور بانو بی بی بنت ساتکزئی — دو جوان، جن کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنی پسند سے جینے کا خواب دیکھا۔ ان کے قبیلے، جرگے اور سماج نے اس خواب کی ایسی بھیانک تعبیر دی کہ ان کی زندگی ہی چھین لی گئی۔ ویڈیو میں لڑکی کی قرآن کے واسطے دیتی آواز، اور پھر قرآن کو اس کے ہاتھ سے چھین لینے کا منظر انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ کیسی غیرت تھی جو اللہ کی کتاب کے سامنے بھی نہ جھکی؟ یہ صرف ایک واقعہ نہیں۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCPی رپورٹ کے مطابق 2024 میں صرف بلوچستان میں غیرت کے نام پر 47 قتل رپورٹ ہوئے، جن میں 70 فیصد سے زائد خواتین تھیں۔ نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW) کے مطابق پاکستان میں سالانہ 1000 سے زائد خواتین غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہیں — اور یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو رپورٹ ہوئے، جبکہ حقیقت کہیں زیادہ ہولناک ہے۔ یہ قتل ریاست کے سامنے ہوئے، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی، عوامی ردعمل آیا، #JusticeForDughariVictims ٹرینڈ بن گیا، اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے "نوٹس" بھی لے لیا۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا ہم ایک بار پھر صرف نوٹس اور بیانات پر ہی اکتفا کریں گے؟ کیا جرگے کے تمام ارکان گرفتار ہو چکے؟ کیا مقتولین کے ورثاء کو تحفظ ملا؟ کیا ریاست نے واضح پیغام دیا کہ اب قانون سے بالا کوئی نہیں ہوگا؟ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 311 اور 302 کے تحت غیرت کے نام پر قتل ناقابلِ معافی جرم ہے، اور 2016 کے قانون کے مطابق وارث معاف بھی کرے تو قاتل کو سزا دی جا سکتی ہے۔ مگر جب جرگہ ہی عدالت بن بیٹھے، اور بندوق ہی فیصلہ سنا دے، تو قانون بے بس نظر آتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف قانون کا نہیں، سماج کا بھی ہے۔ ہمیں اپنے قبائلی، جاگیردارانہ اور پدرشاہی ڈھانچے کا جائزہ لینا ہوگا، جو غیرت کے نام پر خون کو "رسم" بنا دیتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے زمانہ جاہلیت کی رسموں کو ختم کرنے کا پیغام دیا تھا — جہاں بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا، وہاں قرآن نے ان کی عزت و عظمت کی بات کی۔ افسوس کہ ہم آج بھی انھی تاریک گلیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ وہی سوچ، وہی وحشت — صرف شکلیں بدل گئی ہیں۔ ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ نہ ستی جیسی رسومات سے، نہ قبائلی جنگوں سے، نہ اس ظلم سے جو انسانوں نے انسانوں پر روا رکھا۔ ظلم کو "روایت" کہہ کر چھپانے والوں سے ایک سوال ہے: کیا روایتیں انسانوں کے لیے ہیں، یا انسان روایتوں کے غلام؟ ہمیں اس مسئلے پر قومی سطح پر مکالمہ شروع کرنا ہوگا۔ جرگہ کلچر پر پابندی لگائی جائے، غیرت کے نام پر قتل کو انسداد دہشتگردی کے زمرے میں لا کر فوری سزائیں دی جائیں، پولیس اور عدالتیں متاثرین کو فوری تحفظ فراہم کریں، اور سب سے بڑھ کر — ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ یہ صرف بانو بی بی اور احسان اللہ کا قتل نہیں، یہ انصاف، انسانیت اور اسلامی تعلیمات کا قتل ہے۔ خدارا، اب تو جاگو! --