Monday, 2 January 2017

سيکھو تو ترکی عوام سی

وہ قوم  کبھی بھی ترقی اور امن امان کا گہوارہ اپنے ملک کو نہیں بنا سکتی جس میں زمہ درانہ اہلیت نہ ہونے کے برابر ہو اور ماشاء اللہ ایسے لوگوں سے تو پاکستان کا ہر ہر شعبہ بھرا پڑا ہے پہر وہ چاہے صحافت ہو یا سیاست، امیر سے غریب اور عام سے خاص، ہمارا رہڑی والا بھی غیرسنجیدہ و غیر زمہ دار ہے اور ہمارا وزرات عظمی جیسے اعلی منصب پر براجمان بھی اسی بیمار میں مبتلا ہے کیونکہ ہم سب کو اپنا الو سیدھا کرنا ہے کسی کا کیا۔ جاتا ہے تو جائے۔
گزشتہ دنوں ترکی میں ناکام بغاوت کی کوشش کی گئی جس کو الحمد اللہ ثم الحمداللہ وہاں کی غیور اور بہادر قوم نے نہ صرف ناکام بنایا بلکہ ان غداروں کی ایسی دھلائی کی کہ وہ آئیندہ آنے والی نسلوں تک کو بغاوت نہ کرنے کا درس دیتے رہینگے مگر پاکستان میں کچھ نام نہاد میٹھایاں بانٹنے کی بات کرتے تو کچھ اس پورے واقع کو طیب ارودغان کی سازش قرار دینے میں لگے ہوئے ہیں جو کہ سرے سے ہی مجھے بھونڈی قسم لگتی ہے اچانک خبر آئی کہ فوجیوں نے باسفورس برج کو ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں سے بند کئے رکھاہے۔ اِسی طرح استنبول میں آتاترک ائیرپورٹ پر بھی فوجیوں کے قبضہ کی خبر ملی  باغی فوجیوں پر مشتمل ایک ٹولہ اسلحہ سے لیس ترکی کے دارلحکومت انقرہ میں آرمی ہیڈکواٹرز آرمی چیف آف اسٹاف خلوصی آکارلر کے آفس میں زبردستی داخل ہوا۔ جب آرمی چیف کے گارڈز نے باغیوں کو روکنے کی کوشش کی تو باغیوں نے اُن پر گولی چلاکر آرمی چیف آف اسٹاف کے گارڈز کو گولیوں سے چھلنی کردیا۔ اُن باغیوں نے خلوصی آکارلر سے یہ مطالبہ کی کہ اُن کا ساتھ دے کر حکومت کی برطرفی کے الٹی میٹم پر دستخط کریں تو اس نے اِس مطالبے سے صاف انکار کیا اِس پر اُن لوگوں نے خلوصی آکارلر کے گن پٹی پر پستول رکھ کر زبردستی اپنے گھٹنوں پر بیٹھنے پر مجبور کیا اور ایک باغی آفسر نے اپنی بیلٹ نکال کر اُن کا گلادبایا تاکہ وہ مجبور ہوکر اُلٹی میٹم پر دستخط کریں مگر اُنھوں نے اِس کے باوجود نہیں مانا تو اُن کو اور آرمی ہیڈکوارٹرز میں موجود دوسرے فورس کمانڈروں کو گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی اور چھاؤنی میں لے گئے۔آرمی ہیڈگوارٹرز میں باغی فوجی ٹولے اور چیف آف آرمی اسٹاف کے حامی فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ جب خلوصی آکارلر بغاوت کے خاتمہ کے بعد ٹی وی پر دکھائی دیئے تو اُن کے گردن پر اُس بیلٹ کا نشان واضح طور پر نظر آرہاتھا باغی فوجیوں کے ایک اور ٹولے نے ایک باغی جنرل کی قیادت میں آرمی اسپیشل فارسز کے ہیڈکوارٹر میں اسپیشل فارسزکے کمانڈر میجر جنرل ذکائی آق صاقاللی کو گرفتار کرکے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرنا چاہا تاکہ وہ لوگ اسپیشل فارسز کو اِس بغاوت میں استعمال کرسکیں مگر میجر جنرل ذکائی آق صاقاللی کے ایڈجوٹنٹ نے یہ سن کر ایک پل بھی ضائع کئے بغیر اپنا پستول نکالا اور باغی جنرل پر گولی چلادی  یہ دیکھ کر باغی جنرل کے ساتھیوں نے بھی اُن پر گولیاں چلاکر اُنھیں قتل کردیا مارشل لاء اور بغاوت کی خبریں آنے پر ترکی پارلیمنٹ کے تمام پارٹیوں کے ممبران جو انقرہ میں تھے پارلیمنٹ میں جمع ہوئے تاکہ بغاوت کے خلاف ایک قرارداد پاس کرسکیں اُس وقت رات کے اُس پہر میں ڈیڑھ سو سے زائد پارلیمنٹ کے ممبر مذاکرات کے ہال میں اکھٹے ہوئے جن میں ترکی کے سیکولر خیالات و تصورات کے علم بردار ، رجب طیب ایردوغان کے سخت مخالف جمہوری خلق پارٹی کے ممبر بھی شامل تھے۔ اِس کی اطلاع ملتے ہی باغی فوج نے ایف ۱۶ بھیج کر ترکی کی پارلیمنٹ پر بمباری کرادی اِس اثناء میں صدر رجب طیب ایردوغان چھٹیوں کے لیے ترکی کے مارماریس شہر کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے اطلاع ملتے ہی فورا نکلے اُن کے ہوٹل سے الگ ہونے کے پندرہ منٹ بعد باغی فوج کے اسپیشل فورسز کے چالیس سپاہیوں نے ہوٹل میں بم بھی پھینکا اور فائرنگ بھی کی بغاوت کی ناکامی کے بعد اسپیشل فورس کے چالیس سپاہی جنگل کی طرف بھاگ نکلے صدر کی حفاظت پر مامورجنرل، جو اُس دوران انقرہ میں تھا، وہ بار بار صدر مملکت کے ساتھیوں کو فون کرکے صدر کے ہوائی جہاز کا روٹ دریافت کرنا چاہا رہا تھا مگر اُن لوگوں کی عقلمندی معلومات دینے سے انکار کردیا پھر معلوم ہوا کہ وہ جنرل بھی اِس بغاوت کا حصہ تھا  اور اطلاعات کے مطابق گرفتار بھی ہوچکا ہے آرمی ہیڈ کوارٹرز اور آرمی اسپیشل فورسز کے ہیڈکوارٹرز کے ساتھ ساتھ باغیوں نے ترکی کے خفیہ سروس کے ہیڈکوارٹر میں ہیلی کاپٹرکے ذریعے اپنے فوجیوں کو اتارا اور باغیوں نے اترتے ہی خفیہ سروس کے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی تو پولیس اہلکار بھی جوابی فائرنگ کرنے لگے باغیوں کی پہلی فائرنگ میں کافی تعداد میں خفیہ سروس کے پولیس مارے ہوگئے مگر پھر بھی پولیس فارسز نے باغیوں کو گرفتار کرنے تک لڑائی جاری رکھی جس پر باغیوں نے پولیس اسپیشل فورسز کے ہیڈکوارٹر پر ایف ۱۶ سے بمباری کی جس کی وجہ سے پولیس کے کم وبیش سینتالیس اہلکار جن میں خواتین بھی شامل ایک ہی دم میں ماردیئےگئے فوج کی کچھ چھاؤنیوں میں باغی آفسروں نے بغاوت کے حکم سے انکار کی وجہ سے دوسرے سپاہیوں کو سبق سکھانے کی نیت سے انکار کرنے والے اپنے ہی سپاہیوں کے سروں کو گولیوں سے اڑادیا تو دوسری جانب ترکی کے غیور عوام  جنھوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اِس بغاوت کو ناکام کرنے میں اہم کردار ادا کیا جب صدر طیب اردغان نے ٹی وی پر ترکی کے عوام کو سڑکوں پر آنے کی دعوت دی تو شاید ترک اعوام کو انیس سو اسی کا خوفناک منظر یاد تھا جس میں مارشل لاء کے بعد فوجی حکومت نے سیکڑوں بے گناہوں کو پھانسیوں پر لٹکایا تھا ایک لڑکا جو سترہ سال کا تھا، قانون کی رو سے اُس کو پھانسی نہیں دی جاسکتی تھی تو اُن لوگوں نے اُس کی عمر ایک سال بڑھا کر اُسے تختہ دار پر چڑھادیاگیاتھا باغی فوجیوں نے لوگوں کے اوپر فائرنگ شروع کردی مگر اِس خبر کے ملنے کے باوجود کسی نے بھی واپسی کو نہیں سوچا پھر خبریں آنے لگیں کہ باغی فوجیوں نے ٹینکوں کو لوگوں پر چڑھانا شروع کردیا، بہت سے لوگوں کو کچل دیا گیا اور فوجی ہیلی کاپٹروں سے لوگوں پر فائرنگ کررہے ہیں اس سب کے باوجود کوئی مرد نہ کوئی عورت پیچھے ہٹی اور سب لوگ آگے بڑھتے چلتے گئے دوسری طرف تمام مساجد سے صلوٰۃ الشریفہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں تاکہ لوگوں کو سڑکوں پر نکالا جائے اِس طرح سے مساجد سے یہ پیغام مل رہا تھا کہ آپ مرنے پر تیار ہوکر سڑکوں پر نکلیں ترکی عوام ، باغی فوجیوں کو روکنے کی خاطر گولیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوگئے، ٹینکوں کو روکنے کی خاطر لوگ ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے لوگوں نے باغی فوجیوں کو ناکام بنانے کی خاطر ٹرکوں، بسوں اور گاڑیوں کو لے کر چھاؤنیوں کے دروازے بند کئے ٹرک ڈرائیوروں نے فوجی لڑاکا طیاروں کو روکنے کے لیے فوجی ہوائی اڈوں میں اپنے ٹرکوں کو گھساکر فلائٹ ٹریکوں کو لاک کیا، لوگوں نے دھواں پیداکرکے لڑاکا طیاروں کو ٹیک آف کرنے سے روکنے کے لیے فوجی ہوائی اڈوں کے آس پاس موجود اپنے کھیتوں کو آگ لگا دی اور ترک عوام نے نہ صرف اپنی منتخب حکومت کو بچانے کے لیے بلکہ اپنے ملک و قوم و عزت بچانے کے لیے قتل ہوئے، بہت سے بچے یتیم ہوئے، خواتین بیوہ ہوئیں اور بالآخر ترک خون نے جمہوریت کو بچالیا اگر اُس وقت ترکی میں کوئی جمہوریت پسند اپنی جان و مال کی فکر کرتا توآج ترکی میں باغیوں کی حکمرانی ہوتی اور وہ لوگ بغاوت کے خلاف لڑنے والوں کو پھانسی دینے کے لیے قانونی تیاری کررہے ہوتے جس طرح انیس سو ساٹھ کے مارشل لاء کے بعد ترکی کے صدر عدنان مندیرس اور اُن کے ساتھیوں کے ساتھ کیا گیا تھا یقینن ترکی کچھ گدوں کی نظر میں کھٹکتا ہے تبھی تو یہ ناکام کوشش کی گئ پس پاکستانیوں کو اس سے سبق سیکھنا چاہیئے ہمارے اندر نفرت کرپشن سے لتھ پتھ و نااہل سیاستدانوں، بیوروکریٹس وغیرہ کے لیئے ہونی چاہئے نہ کہ اس جمہوری نظام سے دوسرا ووٹ دیتے وقت چائے کی پیالی پر بکنے کے بجائے اپنی و قوم کی عزت کا مان رکھتے ہوئے صحیح لوگوں کو منتخب کرنے کی بھی ضرورت ہے اور بجائے کسی امر کی راہ تکنے کے جمہوریت میں چھپی کالی بھیڑوں کے ختم کرکے جمہوری نظام کو مظبوط کیاجائے نہ کہ ثبوتاژ ورنہ پھر وہی ہوگا جو امرحکمران ہوگا اور پاکستان تباہ برباد ہوگا۔

No comments:

Post a Comment