Wednesday, 31 October 2018
کیا آپ لوگ جانتے ہیں یہ عیسائی گستاخ خاتون کون تھی؟؟
جی اس کا نام ’’ آسیہ مسیح ‘‘ ہے ۔ اس خاتون کو بچانے کے چکر میں ایک گورنر پنجاب سلمان تاثیر موت کے منہ میں چلا گیا …
اسی ’’آسیہ مسیح ‘‘ملعونہ کو بچانے کے چکر میں ایک وفاقی وزیر موت کے منہ میں چلا گیا …
اسی ’’ آسیہ مسیح‘‘ ملعونہ کے خلاف ممتاز قادریؒ نے پھانسی کا پھندا قبول کر لیا اور لعین سلمان تاثیر اسکے ہاتھوں مارا گیا.
تین لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن توھین رسالتﷺ کے قانون 295-c کے تحت ایک ثابت شدہ گستاخ لعینہ کو تا حال پھانسی نہ دی جا سکی.
بین الاقوامی این جی اوز ، بڑے بڑے پادری فرانس کے پاپ دوم رومن کیتھولک ساری کمیونٹی ایک فالسے کی کاشت کاری پر مزدوری کرنے والی لعین گستاخ خاتون کو بچانے کیلئے شروع سے لیکر اب تک سرگرم ہیں لیکن حکومتی مشینری بالکل مفلوج ہو گئی یے اب چیف جسٹس ثاقب نثار ہی کی قیادت میں 3 رکنی بینچ آسیہ مسیح ثابت شدہ گستاخ ملعونہ کی اپیل کی سماعت پر اسکو رہا کر چکے…
اب رہائی پہ عیسائی مشنریاں پولیٹیکل اسائلم دلوا کر اس کو یورپ لے جائیں گی … اور اس خاتون کو ہیرو بنا کر الحاد پھیلانے کا کام لیا جائے گا …
یہ اس مظلوم قانون کی داستان کا صرف ایک باب ہے کہ ایک ملزمہ ملعونہ نے خود تسلیم کیا کہ اس نے توھین کی اور ظاہر وہ عدلیہ کےریکارڈ پہ ھے اور پھر بھی رہا ۔۔۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment