Tuesday, 16 October 2018

تعلیمی ایمرجنسی پروا سرکل میں پہنچنے میں ناکام

یوں تو نئے پاکستان تبدیلی کی حکومت اور تعلیمی ایمرجنسی کی گونج دور دور تک سنائی دیتی ہے لیکن پر
وا سرکل میں تا حال تبدیلی کے اثرات نہیں پہنچ پا رہے۔خیبر پختون خواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل کی پسماندہ ترین تحصیل پروآ میں محکمہ تعلیم کی غفلت کے باعث حصول تعلیم ایک مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔متعلقہ تحصیل کے مکین اج بھی پتھر کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا تو نام و نشان تک موجود نہیں صاحب استطاعت پانی پیسوں کے عوض خرید کر جبکہ غریب عوام جوہڑوں اور نہروں کا پانی پی کر زندگی بسر کررہی ہے جوکہ اس علاقہ کا اولین مسئلہ ہے دوسرے نمبر پر اس علاقہ میں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔یوں تو تبدیلی کی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پالیسی کے مطابق  محکمہ ایجوکیشن میں کئی گناہ بہتری آئی ہے لیکن ان پسماندہ علاقوں میں تبدیلی کے اثرات نہیں پہنچ پا رہے بات کرتے ہیں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروآ کے گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 2 کی جوکہ انڈس ہائی وے سے لنک گلی میں شہر کے حب میں واقع ہے جس میں تقریبا 260 کے قریب بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور سکول کا اسٹاف سرکل کا بہترین اسٹاف ہونے کا بھی اعزاز رکھتا ہے۔رواں سال کے آغاز میں سکول کی عمارت میں ایک کمرے کا اضافہ کیا گیا جبکہ پہلے سے موجود دو کمروں کو نیلام کردیا گیا کہ نیلامی کے فورا بعد نئے کمروں کی تعمیر کی جائے گی۔اب جبکہ سال ختم ہونے کو آیا لیکن سکول میں نئے کمروں کے کام کا آغاز نہ ہوسکا جسکے باعث بچے اساتذہ اور والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔چونکہ سکول میں اب صرف ایک عدد کمرہ موجود ہے جوکہ یکم سے لے کر پانچ جماعتوں کا کلاس روم،سکول آفس،و دیگر سرگرمیوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔جبکہ بیک وقت اس کمرے میں صرف دو جماعتوں کے بچے ہی بمشکل بیٹھ سکتے ہیں اور دوسرے جماعتوں کے بچے باہر کھلے اسمان تے زمین پر بیٹھ کر تعلیم جاری رکھتے ہیں۔سردی گرمی اور بارش کی سختیاں جھیلتے یہ معصوم بچے سارا سارا دن کھلے اسمان تلے بیٹھے رہتے ہیں جبکہ انہی مسائل کے باعث بعض بچے سکول آنے میں کتراتے ہیں۔سکول کے والدین اور اساتزہ نے کئی بار محکمہ ایجوکیشن سے اس سلسلے میں رابطہ بھی کیا لیکن تا حال کوئی سنوائی نہ ہوئی جوکہ تبدیلی کی حکومت اور تبدیلی کے نعرے لگانے والون کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

No comments:

Post a Comment