Sunday, 10 January 2021

وٹس ایپ پرائیویسی اس وقت سوشل میڈیا پر ایک ہیجان کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے. لوگ پریشان ہیں کہ وٹس ایپ اب انکے کالے کرتوت لیک کر دے گا. دھڑا دھڑ ٹیلی گرام جیسی ایپس کی ڈاؤنلوڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے. لیکن فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. ایسا کچھ نہیں ہونے والا جو آپکو بتایا جا رہا ہے. کہانی کو ابتدا سے شروع کرتے ہیں تاکہ آپ لوگوں کو بھی سمجھ آسکے کہ اصل میں کیا ہوگا؟ کیوں ہوگا؟ کیسے ہوگا؟ ایک دفعہ کا ذکر ہے! شروعات ہوتی ہے ایپل کی اپنے یوزر کی پرائیویسی پروٹیکشن اپڈیٹ سے. یہاں یاد رکھیں فیس بک نے وٹس ایپ کو کئی سال پہلے ہی خرید لیا ہے. ایپل کے مطابق بہت ساری ایپس ایسی ہیں جو یوزر کے علم میں آئے بغیر انکا ڈیٹا دوسری ایپلیکیشن میں ٹریک کرتی ہیں. اب دوسری ایپس میں کیا ڈیٹا ٹریک ہوتا ہے. فیس بک کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ اشتہارات ہیں. لیکن فیس بک کو اشتہارات کیوں ملتے ہیں؟ کیونکہ فیس بک کو یوزر کی پسند نا پسند کا پتا ہے. انکو پتا ہے کہ انکا یوزر کس چیز کے بارے میں بات کرنا پسند کرتا ہے. کس چیز کو لائک کرتا ہے. کیسی پوسٹ اور کمنٹس کرتا ہے. لیکن فیس بک پر ایک مسئلہ ہے. کہ آپ وہاں ایسی چیزیں نہیں سرچ کرتے جو گوگل پر کرتے ہیں. یعنی مجھے آئی پیڈ کا سکرین پروٹیکٹر چاہیے تو میں وہ فیس بک پر تو سرچ نہیں کرونگا نا. میں کسی بروزر میں جاؤں گا قوی امید ہے کہ میں کروم بروزور میں جاؤں گا. یا کوئی بھی بروزور ہو گوگل سرچ میں جا کر لکھوں گا. کہ آئی پیڈ سکرین پروٹیکٹر ان پاکستان یا اس سے ملتی جلتی کوئی ٹرم سرچ کرونگا. یہاں ایک خوبصورت بات جان لیجیے کہ فیس بک ہماری سرچ ہسٹری ٹریک کرتا ہے. ویبسائٹس کے جو کیشے یا کوکیز ہوتی ہیں وہ انکو ٹریک کرتا ہے. جسے آکراس دا ایپ ٹریکنگ کہا جاتا ہے. یا آکراس دا ویبسائٹس ٹریکنگ بھی کہہ لیں. یعنی فیس بک اپنی ایپلیکیشنز پر تو آپکی ٹریکنگ کرتا ہی ہے. وہ دوسری کمپنی کی ویبسائٹس اور ایپس پر بھی آپکی ٹریکنگ کرتا ہے. مثال کے طور پر میں ایک دن وائی فائی راؤٹر کے بارے میں کروم بروزور میں سرچ کیا. کچھ ہی دیر بعد مجھے فیس بک پر ایک راؤٹر کا ایڈ ملنے لگا. اسی طرح میں نے ایک سمارٹ بینڈ کے بارے میں سرچ کیا. تو کچھ ہی گھنٹے بعد مجھے ایک ایسا اشتہار ملا جو سمارٹ بینڈ پر مبنی تھا. اب ظاہر ہے میں یہ چیزیں فیس بک پر تو سرچ ہی نہیں کر رہا تھا. تو فیس بک کو کیسے پتا چلیں. اسکا جواب ہے کہ فیس بک ایپ ہر وقت ہماری انٹرنیٹ ایکٹیویٹیز دوسری ایپس پر ٹریک کرتی رہتی ہے. کیوں کرتی ہے. اس لیے کہ وہ یوزر کی پسند کو جان سکے اور اسی حساب سے اشتہارات دکھائے. اب مجھے آئی پیڈ پرو کا پروٹیکٹر لینا ہے. اور فیس بک مجھے وہی پروٹیکٹر کا اشتہار دکھا رہا. تو ظاہر ہے میرے اس اشتہار پر کلک کرنے کے چانسز بڑھ جائیں گے. اشتہار پر کلک ہوگا تو ظاہری بات ہے. خریداری کے چانسز بھی بڑھ جائیں گے. اب اگر ایک کمپنی کی خریداری فیس بک ایڈز کی وجہ سے زیادہ ہو رہی ہے. تو وہ فیس بک پر زیادہ مارکیٹنگ کرے گی. فیس بک پر مارکیٹنگ کا مطلب فیس بک کے پرافٹ میں اضافہ ہوگا. بہت ہی سادہ سی سائینس ہے. کہ فیس بک آپکو وہ اشتہار دکھانا چاہتا ہے. جو آپکے لیے سب سے زیادہ ٹھیک ہو. میرے پاس فرض کیا رئیل می سات پرو موبائل ہے. فیس بک پر مجھے ایک ایسا ایڈ ملے جس میں سامسنگ کے فون کا کیس ہو تو میں اس پر کلک تو نہیں کرونگا. ہاں اگر وہ کیسنگ اسی فون کی ہو جو میں استعمال کر رہا ہوں تو ظاہر ہے اس پر کلک کرنے کے چانسز بڑھ جائیں گے. اب یہ سوال تو کلئیر ہوجانا چاہیے کہ فیس بک ٹریکنگ کیوں کرتا ہے. اب واپس چلتے ہیں کہ ایپل نے اعلان کیا ہے کہ یوزر کو یہ اختیار دینا چاہیے کہ وہ فیس بک جیسی ایپس کو اپنی انٹرنیٹ ایکٹیویٹیز کو ٹریک کرنے کی اجازت خود دیں یا نا دیں. اب صارفین کے لیے تو یہ چیز خوش آئند ہے. کہ فیس بک یا اس طرح کی مزید پرائیویسی کی ڈاکو ایپس انکی سرگرمیاں انکی مرضی کے بغیر ٹریک نہیں کر پائیں گی. لیکن فیس بک کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے. کہ وہ اب کس طرح رائٹ پرسن تک رائٹ ایڈ پہنچائیں گے. یعنی اگر انکو علم ہی نہیں کہ میں نے کسی دوسرے بروزور میں کیا سرچ کیا ہے. میں نے ای کامرس سٹور پر کیا چیز پسند کی ہے. میں نے یوٹیوب پر کیا دیکھا ہے یا سرچ کیا ہے. تو وہ گھی سرچ کرنے والے بندے کے پاس ہوسکتا ہے فیس لوشن کا اشتہار دکھائیں. اب مجھے گھی چاہیے تو میں ظاہر ہے فیس لوشن پر کلک نہیں کرونگا. اور اگر فیس لوشن کے اشتہار پر کلک نہیں کرونگا تو فیس لوشن والی کمپنی کے اشتہارات تو لوگوں تک پہنچ رہے ہیں لیکن ان پر کلک نہیں ہو رہا. تو ظاہر ہے وہ مارکیٹنگ کا بجٹ کم کریں گے. یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر جا کر مارکیٹنگ کریں گے. مطلب فیس بک کے پرافٹ میں کمی آئے گی. اسکے لیے فیس بک کو بھی ظاہر ہے اقدام اٹھانے پڑیں گے. وہ آج کے پرافٹ کو دیکھ کر خوش ہوجائیں اور فیوچر نا دیکھیں تو ظاہر ہے انکی کمپنی نہیں چلے گی. انکو نظر آرہا ہے. کہ جب ٹھیک شخص تک ٹھیک اشتہارات نہیں پہنچیں گے تو مارکیٹنگ کمپنیاں فیس بک پر ایڈز نہیں دینگی. تو فیس بک کا زوال شروع ہوجائے گا. اس سے بچنے کے لیے پہلے تو انھوں نے ایپل کے خلاف بھرپور مہم چلائی. ایپل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا. انکا کہنا تھا کہ the changes will limit businesses ability to run personalized ads and reach their customers effectively. ترجمہ: یہ تبدیلی کاروبار میں مندی کا موجب بنے گی یوزر کی طبیعت کے مطابق اشتہارات کم ہوجائیں گے جس کی وجہ سے انکا اثر کم ہوجائے گا. جبکہ ایپل نے اسکے مقابلے میں یہی کہا کہ We believe that this is a simple matter of standing up for our users. Users should know when their data is being collected and shared across other apps and websites and they should have the choice to allow that or not. ترجمہ: ہمیں یقین ہے کہ یہ صرف اپنے صارفین کے حق میں کھڑا ہونا ہے. صارفین کو علم ہونا چاہیے کہ انکا ڈیٹا دوسری ایپس اور ویبسائٹس سے ٹریک ہو رہا ہے اور انکے پاس اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اسے روک دیں یا اجازت دیں. پھر اسکے مقابلے میں فیس بک نے کمپین چلائی کہ ایپل انٹرنیٹ کو فری نہیں رکھنا چاہتا. یعنی کہ ایپل دباؤ ڈال رہا کہ فیس بک اپنے یوزرز سے سب کرپشن چارجز لے. یا ان ایپ پرچیز شروع کر دے. اب ظاہر ہے ایپل تو رکنے والا ہے نہیں. وہ تو یوزرز کو یہ اختیار دے گا کہ فیس بک انکا ڈیٹا ٹریک کرے کہ نا کرے. اب فیس بک کے پاس کیا آپشن ہے. وہ فیس بک چلانے کی فیس لے. نیٹ فلیکس کی طرح آپکو مہینے کے پیسے فیس بک کو دینے پڑیں گے. اب فیس بک کو بھی پتا ہے. کہ یہ بزنس ماڈیول چل نہیں سکتا. جس دن سے فیس بک سب کرپشن چارجز لینا شروع کریں گے. وہ آدھے سے زیادہ یوزرز لوز کر دینگے. اب اسکا متبادل کیا ہو سکتا ہے. فیس بک کے پاس انسٹاگرام فیس بک میسنجر اور وٹس ایپ موجود ہیں. وٹس ایپ خریدنے کے بعد فیس بک نے اسے اشتہارات اور ٹریکنگ سے پاک رکھنے کا فیصلہ کیا تھا. لیکن ڈیڑھ ارب سے زیادہ لوگ وٹس ایپ استعمال کرتے ہیں. جب فیس بک کے پاس دوسری ایپس سے ڈیٹا ٹریکنگ کا اختیار ختم ہوگا. بیک اپ میں اسکی اپنی ایپس موجود ہیں. جو کہ ایک وسیع تعداد میں یوزر رکھتی ہیں. اب فیس بک کے پاس دو آپشن ہیں. وٹس ایپ میں اشتہارات دکھانا شروع کر دے. یا وٹس ایپ ڈیٹا کو فیس بک اشتہارات کے استعمال میں لائے. تو فیس بک نے وٹس ایپ ڈیٹا کو اسی استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ہے. جس استعمال میں وہ پہلے دوسری ایپس سے ڈیٹا ٹریک کرتا تھا. یعنی اب وہ وٹس ایپ پر کی گئی چیٹ کو ٹریک کرے گا. مثال کے طور پر میں اگر وٹس ایپ پر اپنے دوست کو لکھتا ہوں کہ مجھے پیزا پسند ہے. میرے لیے یہ بس ایک جملہ ہے. لیکن فیس بُک جیسی کمپنیوں کے لیے یہ منافع کمانے کا ذریعہ ہے. وہ فوراً مجھے پیزا کا اشتہار دکھائیں گے. آنلائن ہمارا ایک ایک لفظ کمپنیوں کے لیے قیمتی ہوتا ہے. آپ کیمبریج اینالیٹیکا سکینڈل پڑھ سکتے ہیں. جس میں فیس یوزر کا ڈیٹا امریکن الیکشن کمپین میں استعمال کیا گیا. جس کی وجہ سے فیس بک کو جرمانہ بھی ہوا مارک زنگر برگر کو کانگریس کے سامنے پیش ہو کر وضاحت بھی دینی پڑی. بہرحال، اب پرائیویسی پالیسی میں ہوگا یوں کہ آپکا بھیجا ہوا ڈیٹا وٹس ایپ سرور پر ڈاؤن لوڈ ہوگا. یعنی ٹریک ہوگا. آپکی چیٹس،آپکے گروپس، آپکے فون کا ماڈل، آپریٹنگ سسٹم، وغیرہ ٹریک کرے گا. اس سے فیس بک کو کیا فائدہ ہوگا. یہی کہ انکو پتا لگے گا کہ آپکا فیورٹ گروپ کونسا ہے. آپ کو کیا پسند ہے. کس بارے زیادہ بات کرتے ہیں. کس چیز کے بارے میں آپ فوٹو لگاتے ہیں. سٹیٹس کس طرح کے ہوتے ہیں. ڈی پی کیسی ہے. اب اسکا فیس بک کو یہی فائدہ ہوگا کہ وہ یہ ڈیٹا فیس بک پر اشتہارات میں استعمال کرے گا. یعنی میں وٹس ایپ پر لکھتا ہوں کہ مجھے پیزا پسند ہے. تو وہ مجھے پیزا کے ریلیٹڈ اشتہار دکھائیں گے. وٹس ایپ جب انکو بتائے گا کہ میرے پاس نوکیا تینتیس دس ہے. تو وہ مجھے نوکیا تینتیس دس کی کیسنگ، پروٹیکٹر چارجر ہینڈفری کے اشتہار زیادہ دکھائیں گے. اس میں یوزر کو فائدہ تو خاص نہیں ہوگا سوائے اسکے کہ اسکو اپنی پسند کے اشتہارات ملیں گے. ہاں نقصان یہی ہے کہ اب انکا ڈیٹا personalized ads میں استعمال ہوگا. باقی اس چیز کی فکر نا کریں کہ آپکے نیلے پیلے کرتوت وٹس ایپ والے لیک کر دینگے. ایسا کچھ نہیں ہوگا. باقی آپ چاہئیں تو وٹس ایپ کی بجائے کوئی دوسری ایپ استعمال کر سکتے ہیں. خاص طور پر ٹیلی گرام جیسی ایپ استعمال کی جا سکتی ہے. لیکن وٹس ایپ کی پرائیویسی اپڈیٹ میں ایسا کچھ نیا نہیں ہے جو وہ پہلے فیس بک کی صورت میں نا کر رہے ہوں. دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپی یونین کے 27 ممالک اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے یورپی ممالک نے حال ہی میں جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن( جی ڈی پی آر) متعارف کرایا ہے جس کے تحت تمام کمپنیوں کو صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ اور یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے خواہ وہ کمپنی دنیا کے کسی بھی ملک میں واقع ہوں.

No comments:

Post a Comment