Thursday, 21 August 2025

سہولتوں کی جنت اور مقصدِ حیات کا فقدان

کالم
اگر کسی مخلوق کو دنیا کی ہر آسائش، ہر سہولت اور ہر تحفظ دے دیا جائے تو کیا وہ ہمیشہ خوش، مطمئن اور کامیاب رہے گی؟ بظاہر تو یہ سوال عجیب معلوم ہوتا ہے، اور ہمارا فوری جواب یہی ہوگا کہ "ہاں، جب سب کچھ میسر ہو تو پریشانی کس بات کی؟"۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ سوال پہلی بار حیاتیات کے ایک امریکی ماہر جان کلہون نے عملی تجربے کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھا۔ سنہ 1970ء میں انہوں نے چوہوں کے لیے ایک ایسا ماحول بنایا جسے وہ "جنت" کہتے تھے۔ اس جنت میں خوراک کی کوئی کمی نہیں تھی، جگہ وافر تھی، دشمن کوئی نہیں تھا۔ مختصر یہ کہ زندگی کی ہر ضرورت موجود تھی۔ اس ماحول میں محض چار جوڑے چوہوں کو چھوڑا گیا۔ ابتدائی دنوں میں سب کچھ خوب چلتا رہا۔ چوہے تیزی سے بڑھتے گئے، نسل در نسل آبادی میں اضافہ ہوتا رہا۔ کسی لڑائی جھگڑے یا بقا کی جنگ کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ ہر چیز وافر مقدار میں دستیاب تھی۔ لیکن صرف 315 دن بعد معاملہ بدلنا شروع ہو گیا۔ چوہوں کی آبادی میں اضافہ اچانک سست پڑ گیا۔ معاشرتی ڈھانچہ بگڑنے لگا۔ کچھ چوہے مکمل گوشہ نشین ہو گئے، وہ نہ لڑتے، نہ تعلقات رکھتے، نہ نسل بڑھاتے۔ کچھ نے بچوں کو پالنے سے انکار کر دیا، حتیٰ کہ نوزائیدہ چوہے مرنے لگے۔ دوسری طرف تشدد، آپس میں لڑائیاں اور یہاں تک کہ ایک دوسرے کو کھانے جیسے رویے جنم لینے لگے۔ اور کچھ ایسے چوہے تھے جنہیں "بے مقصد" کہا گیا۔ وہ نہ کسی سماجی سرگرمی میں شریک ہوتے، نہ تنازعہ میں، نہ افزائش نسل میں۔ ان کی پوری زندگی صرف کھانے، سونے اور وقت گزارنے میں گزر جاتی۔ یوں رفتہ رفتہ یہ جنت اجڑنے لگی۔ اور آخرکار دو سال بعد آخری بچہ پیدا ہوا۔ اس کے بعد موت کے سوا کچھ نہ بچا۔ یہ تجربہ کلہون نے 25 مرتبہ دہرایا اور ہر بار نتیجہ ایک ہی نکلا: جب زندگی سے مقصد اور جدوجہد چھن جائے تو معاشرہ سہولتوں کے باوجود تباہ ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی محض چوہوں کی نہیں، یہ ہماری انسانیت کے لیے ایک گہری مثال ہے۔ آج کا انسان جتنا آسائشوں کے قریب جا رہا ہے، اتنا ہی خالی پن، ذہنی دباؤ اور تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں دولت اور سہولتیں تو بے حساب ہیں، مگر خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے، شرحِ پیدائش کم ہوتی جا رہی ہے، خودکشی اور ذہنی بیماریوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔ گویا انسان بھی اس "چوہوں کی جنت" کی طرح آہستہ آہستہ اپنی اصل روح اور مقصد سے دور ہو رہا ہے۔ اسلام نے اسی حقیقت کو صدیوں پہلے واضح کیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق کشادہ کر دیتا تو وہ ضرور زمین میں سرکشی کرنے لگتے، لیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ (یعنی جتنا مناسب ہو) نازل فرماتا ہے، جیسا وہ چاہتا ہے۔” (سورۃ الشورى: 27) یعنی بے حساب سہولتیں انسان کو سرکشی اور بے مقصدی کی طرف لے جاتی ہیں، جبکہ ضرورت کے مطابق رزق اور زندگی کی جدوجہد ہی انسان کو متوازن، زندہ اور بامقصد رکھتی ہیں۔ انسان کو زندہ رکھنے کے لیے محض کھانا، پینا اور سہولتیں کافی نہیں ہوتیں۔ انسان کو ایک مقصدِ حیات چاہیے۔ ایک جدوجہد، ایک خواب، ایک چیلنج… ورنہ زندگی خواہ کتنی ہی آسان کیوں نہ ہو، وہ کھوکھلی اور بے معنی ہو جاتی ہے۔ ہمارے لیے اصل مقصد دنیاوی آرام و آسائش نہیں بلکہ اللہ کی بندگی، خدمتِ خلق، اور ایک بامعنی زندگی ہے۔ یہی جدوجہد ہمیں انسانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز کرتی ہے۔ اگر ہم نے مقصد کھو دیا تو ہماری کہانی بھی انہی چوہوں کی بستی جیسی ہوگی — سہولتوں میں ڈوبی مگر اندر سے خالی، اور آخرکار فنا۔

No comments:

Post a Comment