Friday, 20 December 2019

وقارسیٹھی یا سنیل سیٹھی؟

#پیرا_گراف66 : (شاہراہ دستور پر واقع الحمرا تھیٹر کے نام )

آج اس تفصیلی فیصلے کے #پیرا_گراف66 نے ایک بات تو ثابت کردی -کہ اس ملک میں  ہر ادارہ فلمی اور ہر افسر ڈرامائی کردار کا حامل ہے - ہر ادارہ اپنے کوڈ آف کنڈکٹ کو کوڑے کے ڈبے میں ڈال کر ہیرو بننے کیلئے ان الفاظ اور حرکات کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہےجن کا اظہار سڑک پر چلتا ہوا ایک رکشے والا یا کسی سکول کے تقریری مقابلے میں مباحثہ جیتنے کیلئے کوئی پانچویں کلاس کا طالب علم کرتا ہے - اس ملک میں کوئی بھی سویاں مینگنے ڈالے بغیر تیار نہیں ہوتی - کوئی بھی شادی بیاہ خاندان کے جھگڑے اور رسنے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا -  جب ستر سال کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا اور انقلابی فیصلہ لکھا جارہا تھا تو اس پیرا ٦٦ میں سنی دیول بننا کیا ضروری تھا...... ؟ گویا عدالت نہ ہوگئی شاہراہ دستور پر واقع "الحمرا تھیٹر " ہوگیا - !

اپنے فیصلے کی نظیر میں سترویں صدی کے برطانوی جرنل اولیور کرومویل کی مثال دینا یہ ثابت کرتا  ہے کہ یہ جج صاحب سترویں صدی میں رہتے ہیں اور آج بھی پرانی انگریزی فلمیں دیکھتے ہیں - جس طرح اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ مشرف نے ١٩٩٩ اور ٢٠٠٧ میں دو دفع اس ملک کے آیین کا ریپ کیا تھا جو ایک سنگین اور قابل سزا جرم تھا ' اسی طرح اس بات کو بھی ماننا پڑیگا کہ اس ملک کی عدلیہ بھی اس فیصلے میں اپنا ذاتی عناد اور شخصی انتقام چھپا  نہی سکی جس سے عام عوام کی دل میں اس جرم کے مرتکب مجرم کیلئے ہمدردی اور بھی زیادہ نمایاں ہوتی نظر آتی ہے -  خصوصی عدالت والے جسٹس وقار سیٹھی  اور "دھڑکن فلم والے سنیل سیٹھی " میں تھوڑا  فرق  توہونا چاہیے تھا - ڈی چوک کو ہی پھانسی گھاٹ بنانا ہے تو بسم الله کریں اور دو پھندے اور بھی لگائیں- ایک پی سی او والے ججوں کیلئے اور دوسرا شوکت عزیز اور ق لیگ والی اس پارلیمنٹ کیلئے جو اس جرم میں نظریہ ضرورت کے تحت سہولت کار بنے تھے - پھر ہم سب اس چوک پر مصلحت کے ان جھولتے لاشوں پر تالیاں بجائیں گے - اس پر سونے پر سہاگہ ہے ڈی جی ای ایس پی آر کی وہ کانفرنس جس میں انہوں نے ایک شخص کی فردی حیثیت میں سزا کو پورے ادارے سے جوڑ دیا - اور "فوج ایک خاندان ہے " کہ کر مشرف کو اس خاندان کا حصہ قرار دے کر اس کے جرم کو "خاندانی نوابیت" قرار دے ڈالا -  گویا “وہ جیسا بھی ہے ہمارا لڑکا ہے جوانی میں ایسی نادانی ہوجاتی ہے - ...”

ان سب باتوں سے ایک عام پاکستانی کا یہ تاثر درست ثابت ہوتا ہے کہ عدالتوں کے لکھے فیصلے ہوں یا جرنیلوں کے مارشل لا ' سیاستدانوں کی میڈیا چینل پر توں توں میں میں " ہو یہ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں وزیروں کی ہاتھا پائی ' پاکستان میں میچورٹی اور پروفشنلزم کا شدید فقدان ہے  جو اس ملک میں پانی اور تعلیم کے فقدان سے بھی کہیں زیادہ ہے -
 آخرایک فیس بک لکھاری اور ایک سپریم کورٹ جج کی لکھائی میں کچھ فرق تو ہوںا چاہیے تھا-----ووہی فرق جو کسی آرمی کے نمائندے اور ایک ٹویٹر کے ایکٹوسٹ میں بھی ہونا چاہیے  تھا------ ووہی فرق جو ملک کی آئین اور پرانے اخبار میں  بھی ہونا چاہیے  تھا------  یہ نہیں کہ پھاڑا - پراٹھا لپیٹا - پراٹھا کھا لیا تو گھی سے تر اخبار کوڑے میں پھینک دیا -----بعد میں پتا چلا کہ وہ پرانا اخبار جہاں نہیں مملکت پاکستان کا آیین تھا - ----!
 جمہوریت زندہ باد- - پاک فوج پائندہ باد- آمر جرنیل ہمیشہ برباد - پاکستان تابندہ باد -

#قلم_کی_جسارت_وقاص_نواز 286

No comments:

Post a Comment